پاکستان؛ آل شیعہ تنظیموں کے تحت ”شہید امت“ کانفرنس 13 جون کو مینار پاکستان پر منعقد ہوگی
























اجلاس میں ایشیا بھر سے 15 پارلیمانی وفود شریک ہوئے ، جن میں پاکستان آذربائیجان، بحرین، کمبوڈیا، چین، قبرص، لبنان، فلسطین،، قطر، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان شامل ہیں
حج رموز و اسرار سے بھری عبادت ہے۔ اس کے اندر حرکت و سکون کا پرکشش امتزاج اور اس کی ساخت، ایک مسلمان کی شخصی شناخت اور مسلم معاشرے کی تشکیل کرنے والی اور دنیا کی نگاہوں کے سامنے اس کی پرکشش جھلکیاں پیش کرنے والی ہے
حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمد حسن نقوی نے پاکستان کے دینی مدارس میں طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مشکلات اور ان کا راہ حل کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ اعلی تعلیم کے حصول کے اسباب کیلئے سب سے پہلی چیز ایسی فضا میسر ہو جس میں طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں ہر فن کے ماہر اساتذہ موجود ہو ، فقہ و اصول ، تفسیر، کلام، فلسفہ، منطق، اور جدید علوم اس علمی فضا میں تمام علوم سے متعلق کتب کی دسترسی حاصل ہوں، لائبریری اور پر سکون علمی ماحول ہو جس میں طالب علم ترقی کرسکے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی جلیل القدر ہستیوں کی شان میں گستاخی کرنے والے بدبخت عبد الرحمن سلفی کے خلاف فوری سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھر پور احتجاج کاعندیہ دیاہے۔
رہبر معظم کی حکیمانہ تدبیر کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات کا انعقاد اور جناب عالی کا حسن انتخاب پوری دنیا میں امت مسلمہ کے لئے مسرت و شادمانی کا باعث بنا۔ اس موقع پر اپنی اور پاکستان کے تمام دینی مدارس کی طرف سے جناب عالی کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔
یقینا یہ انتخابات پوری دنیا میں تمام مسلمانوں خصوصا اہل تشیع کے لئے ہمیشہ باعث فخر و مباہات رہےہیں۔ ایران کے زمانہ شناس عوام نے آپ کو حوزہ علمیہ کے ایک فرزند کے عنوان سےصدارتی منصب کے لئے منتخب کیا۔ یہ بات تمام مسلمانوں خصوصا شیعیان اہل بیت کے لئےانتہائی خوشی اور امید کا باعث ہے۔
دشمن کی مختلف سازشوں اور اقتصادی دباؤ کے باوجود انتہائی شان و شوکت کے ساتھ صدارتی انتخابات کے تیرہویں دورے کا انعقاد ایران میں اسلامی اور انقلابی نظام کی بنیادوں کے مستحکم ہونے کی علامت ہے۔ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں حوزہ علمیہ کے فرزند برومند جناب حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی کا حسن انتخاب بھی انتہائی حوصلہ افزا ہے۔
اسلام کا توحید کے بارے میں صحیح عقیدہ یہ ہے کہ انسان اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے، وہ معبود واحد، احد، فرد، صمد، قیوم، سمیع وبصیر، قدیم، قائم، باقی، عالم، قادر بغیر کسی عجز کے، غنی مطلق، عادل، ہر چیز کا خالق، اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور اسکی شبیہ،ضد، ماننداور کفو، کوئی نہیں ہے، عبادت اور دعا ورغبت و خوف کے لائق فقط وہی ذات ہےاور اپنی تمام حاجات اسی سے لیں۔
حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر کی تاسیس 1954 میں ہوئی ۔ جناب الحاج شیخ محمد طفیل کو اس عظیم کام کے آغاز کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس وقت کے لاہور کے اہم علاقہ موچی دروازہ میں حسینہ ہال ایک سو روپے ماہوار کرایے پر حاصل کیا گیا ۔
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نعمات مل رہی ہوتی ہیں اور پھر ان نعمات کی وجہ سے انسان غلط کاموں میں پڑ جاتا ہے۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ اگر خدا کے نزدیک میں اچھا نہیں ہوں تو مجھے یہ نعمتیں کیوں دی جا رہی ہیں۔ لیکن وہ سمجھ نہیں رہا کہ نعمتیں کسی کی اچھائی پر دلالت نہیں کرتیں۔ کسی کو خدا بہت کچھ دے کر امتحان لیتا ہے اور کسی کو نہ دے کر امتحان لیتا ہے تاکہ دیکھے جس کو نعمت دی گئی ہے اس نے کیا کچھ کیا اور جس کو نہیں دیا گیا اس کا رویہ کیسا ہے۔ لہٰذا جب نعمتیں بڑھتی جائیں اور خالق کی طرف سے توجہ گھٹتی جائے تو یہ علامت ہوتی ہے کہ انسان درجہ بدرجہ تباہی اور بربادی کی طرف جا رہا ہے۔