پاکستان؛ آل شیعہ تنظیموں کے تحت ”شہید امت“ کانفرنس 13 جون کو مینار پاکستان پر منعقد ہوگی
























اجلاس میں ایشیا بھر سے 15 پارلیمانی وفود شریک ہوئے ، جن میں پاکستان آذربائیجان، بحرین، کمبوڈیا، چین، قبرص، لبنان، فلسطین،، قطر، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان شامل ہیں
مکتبِ اہلبیت کی تکفیر اور اس کے مقدسات کی توہین کے مرتکب افراد اور اداروں کے خلاف فوری طور پر سخت کار روائی کی جائے اور اس ملک دشمن منافرت آمیز مہم کو چلانے والے افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے نیز حکومتی و غیر حکومتی سطح پر منعقد ہونے والے پروگراموں میں ان کی شرکت پر پابندی عائد کی جائے۔
شاید ہی کوئی ایسا طالب علم ہو جو آپکا بالواسطہ یا بلا واسطہ شاگرد نہ ہو جنہوں نے بلا واسطہ آپ سے تعلیم نہیں بھی حاصل کی وہ آپ کی ھادی ٹی وی پر نشر کی گئی تقاریر اور آپکی تحر یروں کے ذریعے آپکا شاگرد ہے
نوٹیفکیشن کے مطابق بوسٹر ویکسین کی اضافی خوراک کی قیمت وصول کی جائے گی، اور ایک خوراک کی کی قیمت 1270 روپے وصول کئے جائیں گے
پاکستانی دینی مدارس کا ترجمان “15 روزہ وفاق ٹائمز” کی آٹھویں اشاعت پی ڈی ایف فائل کی صورت میں شائع کردی گئی ہے۔
22 تا 25 مئی 2021 منعقد ہونے والے سالانہ امتحانات کا نتیجہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کی ویب سائٹ پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے.
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ان دنوں وطن عزیز میں متنازعہ مسائل کو بلا جواز قانونی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے ہمیں اس پر شدید تحفظات ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ یکساں قومی نصاب ِتعلیم تمام مکاتب فکر کے لیے قابلِ قبول ہونا چاہیےاور کسی بھی متنازعہ اور غیرمتفق علیہ مواد کو اس میں شامل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علماء سے خطاب کرتے ہوئے مفسرِ قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی نے کہا کہ عمامہ جو علماء کے سروں پر ہے وہ علم وتقویٰ کی علامت ہے، اور علماء کی ذمہ داری عوام کی راہنمائی ہے۔ اور محرم الحرام تبلیغِ دین کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ عاشورہ ایک طاقت ، ایک پلیٹ فارم اور ایک عظیم درسگاہ ہے۔
خطباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خطیب کو چاہیے کہ وہ مجلس، وذکر حسینؑ صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے پڑھے ، اگرتبلیغ کا مقصد وہدف اللہ ہو تو پھر کامیابی یقینی ہے۔ مبلغ دین ، مذہب، اور مدراس علمیہ کا ترجمان ہے لہذا اس کے پیش نظر وہی مقاصد ہونے چاہیے جو انبیاء کرام علیھم السلام اور اولیاء اللہ کے ہوتے ہیں، اور اسے وہی کام کرنا چاہیے جو نمائندگانِ الٰہی بجالاتے ہیں، پھر کامیابی یقینی ہے۔
ہم ہمیشہ انہیں امام کہتے ہیں، لیکن کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ان کی پیروی نہ کریں؟ کسی بھی کام میں ان کی اقتداء نہ کریں۔ "امام" کے یہی معنی ہیں؟ شیعہ کا مطلب مشایعت کرنا ہے۔ جس طرح جب کوئی جنازہ اٹھایا جاتا ہے تو سب اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتے ہیں، یہ اس جنازے کی تشییع ہے۔ اگر جنازہ کسی سمت لے جایا جا رہا ہو اور لوگ کسی دوسری طرف جا رہے ہوں تو اسے تشییع نہیں کہتے۔ شیعہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی مشایعت کریں، ان کے پیچھے پیچھے چل پڑیں۔ البتہ زہد و تقویٰ، مظلوم کی داد رسی اور غریبوں کی دیکھ بھال میں ہوبہو ان کی پیروی کرنا ہمارے بس میں نہیں، بلکہ کسی کے بھی بس میں نہیں ہے۔