مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























صدر وفاق المدار س الشیعہ اورپرنسپل جامعتہ المنتظر آیت اللہ حافظ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بیوہ محترمہ ہنرینہ خان اور بیٹیوں کے نام تعزیتی خط میں فخرِ قوم و ملت محسن پاکستان کے انتقال پر تعزیت پیش کی ہے اور کہا ہے کہ فقط آپ کا خاندان ہی نہیں بلکہ ہر پاکستانی اپنے اس عظیم محسن اور بے مثال ہیرو کے فراق میں سوگوارہے۔
انہوں نے کہاکہ سردار سکندر حیات نے ہمیشہ اصول پرستی، حق گوئی اور حق کی سیاست کا علم بلند کیا، آزاد کشمیر کیلئے سردار سکندر حیات کی خدمات کو ہمیشہ یار دکھا جائے گا، مرحوم نے ریاست آزاد کشمیر کے عوام کی جو خدمت کی ہے، وہ ناقابل فراموش ہے۔
علمائے فلسطین پر مشتمل وفد نے نجف اشرف میں آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی سے ملاقات میں انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ آیت اللہ حافظ بشیر نجفی نے مشکل اوقات میں امت مسلمہ خاص کر مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آوازیں بلند کی اور ان کا ساتھ دیا ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ مراجع عظام فلسطینیوں کے لیے آواز بلند کرنے والوں میں ہمیشہ آگے رہے ہیں۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی نے مرکزی دفتر نجف اشرف میں علماء فلسطین پر مشتمل وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ نجف اشرف پہلے کی طرح ہمیشہ فلسطین کے ساتھ رہے گا اور ان شاء اللہ ہم مسجد اقصی کو آزاد کرائیں گے۔
بھارت میں پنڈت اور اس کے حواریوں نے 10 سالہ مسلم لڑکے کو داسنا دیوی مندر میں غلطی سے داخل ہونے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر پولیس کے حوالے کردیا۔
شگر بلتستان پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالم دین، معاونت فرہنگی مجمع طلاب شگر حجہ الاسلام شیخ فدا حسین جنتی صاحب کے والد، حجہ الاسلام و المسلمین شیخ حسین علی جنتی مختصر علالت کے بعد آج قم میں انتقال کر گئے ہیں.
ایرانی دینی مدارس کے سربراہ آیۃ اللہ علی رضا اعرافی نے کل شام صوبۂ قم کے جہادی طلباء و طالبات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نقطۂ نظر سے،حادثات،مشکلات اور آفات سے نمٹنے کے لئے ایک اہم نظریہ موجود ہے۔
حرم کریمۂ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ قم کے شعبہ تعلیم و تربیت کے ماہر خواہر خراسانی نے کہاکہ «وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوا إِلَیْهَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ». اس آیت میں،جو کہ شادی کی آیت کے طور پر مشہور ہے
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: امام مہدی کے لئے ایسی غیبت ہے جس کے دوران ایک گروہ دین کو چھوڑ دے گا اور ایک گروہ دین کا پابند رہے گا اور اسے اذیت و آزار کا سامنا کرنا پڑے گا ، انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ امام مہدی کے ظہور کا وعدہ کب پورا ہوگا؟ لیکن وہ جو زمانہ غیبت میں ان مشکلات اور جھٹلائے جانے پر مضبوط رہے گا وہ گویا ایسے مجاہد کی مانند ہے جو رسول خدا کے ہمراہ تلوار سے جہاد کررہا ہو۔بحار الانوار ج۵۱ ص ۱۳۲