صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر انجمن جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل لداخ نے اس موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے زندگی بھر حوزہ علمیہ اثنا عشریہ میں جانفشانی کے ساتھ خدمات انجام دی،کرگلی عواماور بالخصوص جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل انکی قربانیوں اور دین مبین اسلام کی ترویج کیلئے کی گئی ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ میڈیا میں عریانی اور فحاشی کو عام کیا جا رہا ہے۔میں چپ رہ سکتا ہوں، نہ آپ چپ رہ سکتے ہیں۔ شاید ہم لوگوں کی آنکھیں چیزوں کو دیکھنے کی عادی ہوگئی ہیں۔ معصومین علیہم السلام نے ہمیں یہ اصول دیا ہے کہ حد اقل برائی کو برائی جانو۔ سید الشہداء کا فرمان ہے کہ اب بنی امیہ نے برائی کو برائی کی حیثیت سے نہیں رہنے دیا، برائی کو اچھائی سمجھ کر آگے بڑھا دیا۔ یزید رجل فاسق، فاجر، معلن بالفسق۔ یزید فاسق ہے فاجر ہے، کھلے عام شراب پیتا ہے۔ ظاہراً تو تختِ خلافت پر بیٹھا ہے اور کھل کر شراب پی رہا ہے اور کوئی روک نہیں رہا۔ میں اور آپ بھی اگر اسی رو میں بہہ گئے کہ جو ہوتا ہے ہونے دیں ہم کیا کرسکتے ہیں۔ نہیں، مجھ پر بھی فرض ہے، آپ پر بھی فرض ہے کہ جو آواز اٹھا سکتا ہے اس پر آواز اٹھانا واجب ہے۔
اجلاس میں طے کیا گیا کہ سندھ میں تعلیمی نصاب میں تبدیلی، مساجد و مدارس کو محکمہ اوقاف کے ماتحت کرنے اور ٹرسٹ کی رجسٹریشن کے حوالے سے ملی یکجہتی کونسل سندھ کے تحت قائم کی گئی کمیٹی کا ایک وفد گورنر و وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کرے گا۔
حجۃ الاسلام غضنفر حیدری نے علم اور عالم کی فضلیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالم کی ہمنشینی ہزار عابد کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔ امام جعفر صادق ؑ سے پوچھا گیا کہ ایک طرف کسی شہید کی نماز جنازہ ہورہی ہے اور دوسری جانب ایک عالم دین منبر پر بیٹھ کر وعظ کررہے ہیں ان دونوں میں سے کس میں شرکت کرنا بہتر ہے؟ تو امامؑ نے فرمایا عالم کی صحبت میں رہنا 70 شہدائے بدر کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے سے بہتر ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر اور جامعہ امام خمینی ماڑی انڈس میانوالی کے سربراہ علامہ سید افتخار حسین نقوی نے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی سے حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور میں ملاقات کی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی عراقی ہم منصب سے ملاقات ہو ئی ، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات باہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال کیا گیا اور کثیر الجہتی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کےپرگفتگو ہوئی۔
گزشتہ روز، جب شیخ زکزاکی کے وکیل اپنے مؤکل کے مقدمے میں شرکت کے لئے عدالت گئے تو انہیں بتایا گیا کہ اس مقدمے کی سماعت نہیں ہوگی اور شیخ زکزاکی کے وکلاء کو اگلی سماعت کے لئے وقت کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا۔
سنہ 1340 ہجری (1921 عیسوی) میں شیخ عبدالکریم حائری کے توسط سے حوزہ علمیہ قم کی تاسیس سے قبل میرزا محمد فیض قمی سنہ 1333 ہجری میں سامرا سے قم واپس آئے اور 1336 سے 1340 ھ تک مدرسہ دارالشفاء اور مدرسہ فیضیہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا جو علمی سرگرمیوں کے لئے استعمال کی قابلیت کھو چکے تھے۔ انہوں نے ان مدارس میں طلبہ کو بسایا۔
جمعیت العلماء اثناعشریہ کرگل کے صدر حجۃ الاسلام ناظر مہدی محمدی نے کہا کہ مرحوم کی اچانک رحلت سے گلگت و بلتستان اورلداخ کے علمی و ادبی حلقے میں ایک خلا پیدا ہوا ہے جس کو پر ہونے میں کافی وقت لگے گا ۔ مرحوم کی شاعری ہمیشہ ان کی یاد تازہ کرتی رہے گی۔