صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























کارڈینل نے نجف اشرف میں پوپ فرانسس کی آمد کی سالگرہ کے موقع پر پوپ فرانسس کا شکر وتقدیر پر مشتمل پیغام بھی پہنچایا۔
پاپائے اعظم نے مسلمانوں کی تاریخ، شیعہ اور سنی مسالک اور مکاتب فکر کے بارے میں کچھ جاننا چاہا، جسے بہت مختصر اور جامع انداز سے بیان کیا۔ اس بات کے اظہار کے ساتھ کہ مسالک اور مکاتب مختلف ضرور ہیں مگر ہم سب ایک ہیں اور ہم علمی اختلاف پر یقین رکھتے ہیں شدت پسندی اور نفرت آمیز رویوں کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دین اسلام عورتوں کے حقوق کا محافظ ہے۔ مغربی تہذیب و ثقافت سے مرعوب عناصر عورت کی آزادی کے نام پر فحاشی اور عریانی کا پرچار چاہتے ہیں۔
کوئی بھی مومن یا مومنہ مریض نہیں ہوتے مگر ہم ان کے مرض کی وجہ سے مریض ہو جاتے ہیں اور کوئی غمگین نہیں ہوتا مگر ہم بھی غمگین ہو جاتے ہیں اور کوئی دعا نہیں کرتا مگر ہم اس دعا پر آمین کہتے ہیں اور کوئی خاموش نہیں ہوتا مگر ہم ان کے لئے دعا کرتے ہیں
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں لَوْ أَدْرَکْتُهُ لَخَدَمْتُهُ أَیامَ حَیاتِی اگر میں ان کو پالیتا تو اپنی تمام عمر ان کی خدمت کرتا۔ آئمہ علیہم السلام امام زمانہ(عج) کی نسبت اس طرح کے احترام کے قائل تھے اور یہی احترام ان کے شاگردوں میں منتقل ہوا۔
حجت الاسلام غضنفر حیدری نے حوزہ علمیه قم کے مایہ ناز اساتذہ جیسے آیت اللہ جعفر سبحانی، آیت اللہ وحید خراسانی، آیت اللہ لنکرانی، آیت اللہ جواد تبریزی، آیت اللہ مکارم شیرازی، آیت اللہ نوری ہمدانی، آیت اللہ جواد آملی اور آیت اللہ جعفر پیشہ سے کسب فیض کیا۔
انہوں نے کہا کہ انسانیت اس وقت آزمائشوں بلاوں اور مصیبتوں کے دور سے گزر رہی ہے ایسے میں انسان مایوسی و نا امیدی کے اندھے کنوئیں میں جا گرتا ہے جہاں اندھیرے اور تاریکی کا بسیرا ہے لیکن لاکھ شکر اس ذات الہی کا ہم اس مکتب کے پیروکار ہیں جہاں جب ظلم بڑھتا جاتا ہے تو امید کا دیا روشن تر ہوتا جاتا ہے یہ امید ظہور امام مھدی عج کی امید ہے جو ہمیں ہر طرح کی مایوسی و تاریکی سے بچاے ہوے۔
ایک واقعہ ملتا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے بڑے بیٹے اسماعیل کا ایک دوست تھا کہ جو نشہ کرتا تھا اور لوگوں کے نظر میں کافی بدنام تھا تو ایک بار جناب اسماعیل نے اسے پیسے دیئے تو وہ ان پیسوں کو کھا گیا
ترجمان حکمرانوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک توقف کے بعد دہشت گردی پھر سراٹھا رہی ہے جس کی تازہ ترین مثالیں سانحہ امامیہ مسجد پشاور، سانحہ ڈی آئی خان اور دیگر سانحات ہیںجس کی بنیادی وجوہات میں دہشت گردو ںکی نرسریوں اورنیٹ ورکس کو ختم نہ کرنا ہے ۔