مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























آج صبح سات بجے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران سمیت تمام چھوٹے و بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں تیرہویں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایران میں 59 ملین 3 لاکھ 10 ہزار اور 307 افراد ووٹنگ میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تیرہویں صدارتی انتخابات میں ووٹنگ کے آغاز کے ابتدائی دقائق میں اپنا ووٹ حسینیہ امام خمینی (رہ) میں موبائل بیلٹ بکس نمبر 110 میں ڈال دیا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیرہویں صدارتی انتخابات کے علاوہ شہری اور دیہی کونسلوں کے چھٹے ، خبرگان کونسل اور گیارہویں پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات میں بھی اپنا ووٹ کاسٹ کردیا ہے۔
ایران میں صدارتی انتخاب کے سلسلے میں جمعہ کو ووٹ ڈالے جائیں گے جس کے لیے 7 امیدوار میدان میں تھے تاہم 3 امیدواروں کی جانب سے دستبرداری کے اعلان کے بعد اب 4 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔
وزیر اعظم عمران خان کو زیر صدارت اجلاس میں ملک میں انتخابی عمل میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے انتخابی عمل میں استعمال میں شفافیت اور تمام آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اپنے عزم کا اعادہ کیاکہ موجودہ حکومت ملک کے انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنانے کے حوالے سے پُرعزم ہے۔
جمعے کو منتخب ہونے والا صدر جمہوریہ اگر واضح اکثریت سے کامیاب ہوتا ہے تو مضبوط اور طاقتور صدر ہوگا اور کارہائے نمایاں انجام دے سکے گا۔ اگر انتخابات میں شرکت کی شرح کم رہی تو دشمن کو منہ زوری کا موقع مل جائے گا۔ ایران میں انتخابات کے آزادانہ اور شفاف ہونے کی ایک دلیل یہی ہے کہ مختلف سیاسی رجحان کے حامل صدور منتخب ہوئے ہیں۔
مرغزار کالونی میں جامعۃ الواعظین کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ مدارس اور جامعات سے دین اسلام کی تعلیم کو فروغ ملتا ہے، علماء اتحاد بین المذاہب اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ملاقات میں جی بی کے معروضی حالات، ملی یکجہتی کونسل اور خطے کی آئینی حیثیت کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ دونوں پارٹیوں کے قائدین نے مشاورت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا۔
امام رضا علیہ السلام سے حضرت قائم عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو میں نے سنا کہ وہ فرما رہے تھے : نہ ان کا وجود دیکھا جائے گا اور نہ انکا نام بیان ہو گا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہا کہ خشک سالی قدرتی امر البتہ اثرات سے تحفظ کےلئے منصوبہ بندی ضروری ہے، خشک سالی سے تحفظ ، لائحہ عمل بارے قرآن پاک کے سورئہ یوسف سے استفادہ کی ضرورت ہے کہ کیسے اہل مصر کو حضرت یوسف ؑ نے حکمت و تدبراوربہترین حکمت عملی سے ایک عرصہ خشک سالی سے محفوظ رکھا۔