زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
۲۵ / افراد پر مشتمل اسلام مخالفوں کے پانچ گروہ نے آپس میں یہ طے کیا کہ پیغمبر کے پاس جاکر مناظرہ کریں۔ان گروہوں کے نام اس طرح تھے: یہودی، عیسائی، مادّی، مانُوی اور بت پرست۔یہ لوگ مدینہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چاروں طرف بیٹھ گئے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بہت ہی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو بحث آغاز کرنے کی اجازت دی۔
28 صفر کا دن پوری دنیا کے لیے غم و حزن کی یادوں سے وابستہ ہے کیونکہ پوری دنیا کے لیے رحمت بن کر آنے والے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی دن ہمیشہ کے لیے اس ظاہری دنیا کو خیر باد کہا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
موضوع سخن انتظار ہے۔ ہم زمانہ غیبت میں جو اہم ترین وظیفہ رکھتے ہیں وہ مولاؑ کا عقیدہ ،علم و عمل ہر اعتبار سے انتظار ہے۔ انتظار کو بڑھانے میں دو چیزوں کا بڑا کردار ہے
ابو لادیان جو امام عسکریؑ کے غلام ہیں کہتے ہیں امام ؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں کچھ خطوط دئے اور فرمایا ان کو مدائن شہر میں پہنچا دو ۔ تم 15 دن کے بعد سامرہ پلٹو گے اور میرے گھر سے نالہ و شیون کی آواز سنو گے
ملک کی موجودہ صورتحال کو سامنےرکھتےہوئے یکم ربیع الاول کا پروگرام ملتوی کردیا گیا۔ اس پروگرام کےملتوی ہونےکے بعد یہ فقیر چند اہم لیکن پراگندہ نکات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہے۔
سنی شیعہ متحدہ اجتماعات میں آپ کو بہت پسند کیا جاتاتھا لوگ آپکی تقریر کے گرویدہ تھے برجستہ اور بر محل تقریر دلکش اور بھاری بھر کم انداز
امام جعفر صادق علیه السلام فرماتے ہیں: دل برداشتہ نہ ہونا کہ تم کربلا نہ پہنچ سکے، اس دن دل سے کربلا کو یاد کرو اور کربلا کے غم کو یاد کرنا یعنی تم کربلا میں ہی ہو، دل سے آہ و بکا تو کر ہی سکتے ہو؟ ممکن ہے تمہارے اس ایک آه و بکا کا ثواب زیارت سے زیادہ ہو۔
اربعین یعنی عاشورا کے عالمی انقلاب کے چالیس دن گزر جانے کے بعد سید و سردار کی یاد منانے کا عالمی دن۔
مومن وہ ہے جو باعمل ہو، امام مہدی (ع) کے ساتھ مخلص ہو، حقیقی سچا انتظار کر رہا ہو، ظہور کے لیے مکمل تیار ہو