غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
زیارت اربعین روز چہلم سید الشھداء علیہ السلام کی زیارت مخصوصہ ہے اور ائمۂ شیعہ نے اس کی بہت سفارش کی ہے، جس کی بناء پر شیعیان اہل بیت علیہ السلام اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔شیعیان عراق روز اربعین کربلا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر عراقی یہ راستہ پیدل طے کرتے ہیں۔ اربعین کا جلوس دنیا کا عظیم ترین اجتماع شمار ہوتا ہے۔
بحار الانوار میں نبیؐ اکرم کا فرمان ہے کہ: "اللہ تعالی کی مانند کوئی نہیں وہ بلا مثال ہے اور کوئی اسکی شبہیہ نہیں ۔ آپ اسے ایک ایسا خدا پائیں گے جو ایک ہے ، خلق کرنے والا ہے۔ قادر ہے۔ سب سے پہلے ہے سب سے آخر ہے۔ ظاہر ہے پنہاں ہے اور کوئی اس کی مثل نہیں اور یہ اللہ کی حقیقی معرفت ہے۔ ”
شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی 1967 میں نجف اشرف مشرف ہوئے اور نجف اشرف اور بعد ازاں قم میں مختلف اساتذہ کے ہاں فقہ اور اصول فقہ کے اعلی مدارج طے کئے۔
ایسے ہی امام خمینی (رہ) نے اس پیغام کے آخر میں لکھا ہے کہ "میں اپنے عزیز فرزند سے محروم ہوا ہوں" اب دیکھیں کہ ایک طرف شہید کو سید الشہداء کے صادق فرزند اور دوسری جانب یہ کہنا کہ میں اپنے بیٹے سے محروم ہوا ہوں، کس قدر پر معنی و گہرا جملہ ہے۔
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلواقات بنایا اور اس کی اس شرافت، عزت اور عظمت کو برقرار رکھنے اور ساتھ میں مزید ان میں ترقی، بلندی اور تکامل روحی بخشنے اور معنوی مراحل کو طے کرنے کے لیے اللہ نے انبیاء اور اولیاء علیہم السلام کو تسلسل کے ساتھ بھیجے گےتمام انبیاء اور مرسلین علیھم السلام ان ہی اھداف کو پای تکمیل تک پہنچانے کے لیے مسلسل جد و جھد کرتے رہیں
ربلا دنیا کے مظلوموں سے با بانگ د ہل وعدہ کر رہی ہے کہ تم خدا کی راہ میں قدم رکھو تو سہی کامیابی کی راہ تمہاری قدم بوسی کے لئے منتظر ہے ۔ سلاطین زمن کے تاج تمہاری جوتیوں کو بوسہ دینے کے لئے آج بھی قصر شاہی کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔
موضوع: منتظر کا ھدف ، دنیا کے تمام مذاھب و ادیان کا مشترکہ عقیدہ،مومن منتظر کے لیے کیوں دنیا قیدخانہ،عالمی مصلح کے انتظار میں اسلام اور شیعیت کا کردار ،شیعہ ظہور کے آغاز میں ہر اول دستہ
اِن بزرگ ہستیوں کے درمیان بھی بہت سی عظیم شخصیات پائی جاتی ہیں کہ جن میں سے ایک شخصیت حضرت امام حسین علیہ السلام کی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ یہ کہنا چاہیے کہ ہم خاکی ، حقیر اور ناقابل انسان بلکہ تمام عوالم وجود ، بزرگان و اولیائ کی ارواح اور تمام ملائکہ مقربین اور اِن عوالم میں موجود تمام چیزوں کیلئے جو ہمارے لیے واضح و آشکار نہیں ہیں، امام حسین علیہ السلام کا نورِ مبارک، آفتاب کی مانند تابناک و درخشاں ہے۔
یہ وہ مقاصد ہیں جن کی خاطر امام ( ع) نے شھادت اور ہر قسم کی قربانی دے کر اپنے فرائض کی تکمیل فرمائی اس مقصد کے حصول کے لئے بوڑھے حبیب ابن مظاھر سے لے کر چھےماہا علی اصغر تک قربان کردیا