صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
حجت الاسلام و المسلمین مسعود عالی نے مجلس پڑھی اور اپنے خطاب میں اس نکتے کو بیان کیا کہ دینداری کا اصلی معیار اور پیمانہ یہ ہے کہ انسان محاذ حق کا حصہ بنے اور امام کی منزلت و ذمہ داری کی معرفت رکھتا ہوں۔
ماتمی انجمنیں، ہمارے مسلمان معاشرے میں حسینی روشنی کی ایک جھلک ہمارے عوام کے لیے ماتمی انجمنوں کا موضوع ایک عام اور روزمرہ کا معاملہ ہے اور لوگوں کے دل اور ان کی آنکھیں ان سے مانوس ہیں لیکن اگر کوئي زیادہ باریکی اور حقیقت بیں نظروں سے دیکھے تو یہ ہمارے مسلمان معاشرے میں حسینی ضوفشانی کا ایک مظہر اور اس عظیم الہی تحریک کی مسلسل جاری برکتوں اور ثمرات میں سے ایک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان دنیا کے بندے (غلام) ہیں اور دنیا کے بارے میں امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ دنیا کی مثال سانپ جیسی ہے کہ جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اْس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے؛ فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھنیچا چلا جاتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔
عالمی یوم حضرت علی اصغر (ع) کے موقع پر ہونے والی عزاداری اپنی نوعیت کی ایک منفرد عزاداری ہے، جو 20 سال سے عالمی سطح پر ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں برپا ہوتی ہے۔
حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے خطیب نے کہا: اہل بیت علیہم السلام کے کلام میں دنیا پرستی کو بار بار حرام قرار دیا گیا ہے اور انسان کو دنیاوی امور میں مشغول نہیں ہونا چاہئے اور اس کا مطلب سستی اور کاہلی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دنیا کا اسیر نہ کر لے۔
حسینیۂ امام خمینی میں سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی پہلی شب کی مجلس برپا ہوئی جس میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای شریک ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عصر حاضر میں دو گروہ موجود ہیں؛ ایک وہ جو امامؑ کو نہیں مانتے لیکن ایک گروہ وہ ہے جو امامؑ کو تو مانتے ہیں، لیکن امامؑ کے نظریے کو قبول نہیں کرتے. دوسرے گروہ کی تشخیص کے لئے چشم بصیرت کی ضرورت ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلین سید شفقت علی نقوی نے مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام زمان عج صرف شیعوں کا امام نہیں بلکہ تمام عالم انسانیت کے امام ہیں۔ تمام مخلوقات کیلئے امام کی اطاعت واجب ہے۔
کعبہ شریف کے اردگرد سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ رکاوٹیں ڈھائی سال قبل کورونا وبا کے باعث لگائی گئی تھیں۔