دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
حجت الاسلام مصلح نے حضرت فاطمه معصومه سلام اللہ علیہا کے وجود مبارک کو دین اسلام کی نظر میں خواتین کی اہمیت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت معصومه (س) حضرت فاطمه زہراء سلام اللہ علیہا کی پرچھائی ہیں کہ جو ایران میں ہیں۔ آپ عصمت و طهارت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی ایران کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج پارلیمنٹ کے نمائندے سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے انتخابی حلقوں میں جاکر مہم چلاتے ہیں۔ عوام ان پر اعتبار کرکے اپنا ووٹ دیتے ہیں اور منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں آتے ہیں۔ یہ سب ان کی فداکاری اور شہدا کی جانثاری کی مرہون منت ہے۔
پاکستان کو توانائی کے شعبے میں اپنے پائوں پر کھڑا کرنے اور عوامی مشکلات کے حل کیلئے سستی توانائی کے حصول کیلئے جرات مند و خود مختار پالیسیاں اختیار کرنا ہونگی
حوزہ علمیہ جامعہ المنتظرماڈل ٹاون میں عازمین حج کیلئے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ کاروان حج المنتظر کے زیر اہتمام ورکشاپ میں عازمین حج میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
جامعه الزہراء (س) کے آڈیٹوریم میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران محترمہ ناہید طیبی نے حضرت معصومه قم (س) کی تربیتی شخصیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ (س) کی ولادت، آپ کی وفات اور آپ کی زندگی کا لمحہ بہ لمحہ تاثیر گزار ہے اور ہمیں اس پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین قریشی نے کہا کہ شیعہ و اہلسنت و الجماعت کے درمیان اس اتحاد کا ختم ہو جانا تمام مسلمانوں کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگا، کیونکہ یہی اتحاد و بھائی چارگی ہے کہ جس کی وجہ سے دشمن ہماری صفوں میں گھسنے سے عاجز ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام ریاستی اداروں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تکفیری گروہ دہشت گردوں کی نرسری کے طور پر کام کرتے ہیں۔دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑنا ہوگا۔مگر بدقسمتی سے ایسا اب تک نہیں ہوسکا۔
ہمارے حوزات علمیہ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ بڑی بڑی شخصیات، علماء کرام، فاضل، طالب علم بغیر کسی ادعا کے پڑھنے، پڑھانے اور تبلیغ دین وغیرہ میں مشغول ہیں۔