دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
حضرتِ آیۃ اللہ العظمیٰ سبحانی نے کہا کہ دنیا کے تمام مذاہب کے نزدیک ایک نجات دہندہ کا ظہور ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جس کا مستقبل کو سامنا کرنا پڑے گا، البتہ یہ ان تمام انصاف پسند انسانوں کی فطری خواہش ہے جو صدیوں سے کرہ ارض پر ظہور کی تمنا لئے اس نجات دہندہ کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کتاب و کتابخوانی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی سید علی خامنہ ای کا قول نقل کیا کہ آپ فرماتے ہیں: کتنا اچھا ہے کہ ہم خود بھی روزانہ کتاب پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی عادت ڈالیں نیز اپنے گھر والوں کو بھی اس کا عادی بنائیں۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حضرت معصومه سلام اللہ علیہا کی اہم ترین صفات میں ایک آپ کا علم ہے، کہا کہ اگرچہ حضرت کا انتقال کم عمری میں ہوا لیکن آپ کا علم و عرفان تاریخ میں زبان زدہ خاص و عام ہے۔
انہوں نے 1948ءکے ا علان کردہ29 مئی امن پسندو ں کے عالمی دن (ورلڈ پیس کیپر ڈے) پر کہاکہ دنیا میں امن تب قائم ہوگا جب طاقت کا توازن درست ہو، اس کےلئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان کو توانا اور مستحکم رکھا جائے۔
انہوں نے لڑکیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کو آج ضرورت ہے کہ اچھے سے پڑھیں اور جدید علوم حاصل کریں اور مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوائیں۔ معاشرتی اور روحانی کمالات کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہوں اور ساتھ ساتھ دشمن کے نقشوں سے ہوشیار رہیں اور اپنے معاشرے کی خدمت کرنا نہ بھولیں۔ آج کی یہ جوان لڑکیاں، کل آنے والی نسلوں کی مائیں ہیں اور ہر ماں اپنے بچے کو تربیت میں مؤثر ترین کردار ادا کرتی ہے۔
اس تقریب میں ان معذور افراد کے ایک گروپ نے عشرۂ کرامت کی مناسبت سے امام رضا علیہ السّلام کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت بھی پیش کیا۔
تین عشروں سے زائد وقت گزر گیا مگر آج بھی سینکڑوں مظلوم انصاف کے متلاشی ہیں
سانحہ 1988ء گلگت بلتستان کے اہل تشیع کے خلاف ایک منظم سازش تھی، مقررین
حجت الاسلام والمسلمین طبسی کا کہنا تھا کہ ہمیں خداوندعالم کی اطاعت خلوص سے کرنی چاہیئے یعنی اس میں ہماری نفسانی خواہشات شامل نہ ہوں۔