دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق دینی مدارس میں عمومی مہارتوں کی ایجاد اور دینی تحقیق کو جہت دینے نیز اس سسٹم کیلئے تلاش و کوشش کرنے میں بہت زیادہ کار آمد ہے۔
ملاقات میں حضرت علامہ قاضی سید نیاز حسین نقویؒ مرحوم طاب ثراہ کی روح پُرفتوح کے لئے فاتحہ خوانی کی۔
اجلاس میں، جامعۃ المصطفیٰ کے ایران اور دیگر ممالک میں زیر تعلیم طلباء کی جانب سے عشرۂ کرامت کیلئے مختلف اشعار اور منقبت نیز جامعہ المصطفی کے طالب علموں کے ذریعے مختلف ممالک کیلئے زیارت نیابتی کا زمینہ فراہم کرنے سمیت ثقافتی اور تحقیقی شعبوں میں جامعہ المصطفی کے ساتھ تعاون کے موضوع پر نیز اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں موجود دینی مدارس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ علمیہ قم کے بعد سب سے بڑا علمی مرکز حوزہ پاکستان ہے۔ اس وقت پاکستان میں 616 شیعہ مدارس ہیں جن میں تقریبا 21 ہزار طلبہ دینی علوم کی تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہیں۔
ہماری ذمہ داری صحیح جواب دینا ہے نہ کہ غلط جواب دینا اور اگر توہین بھی ہو تو مسئلہ نہیں ہے کیونکہ انسان گناہ کار نہیں ہوگا مگر غلط جواب دینے میں دنیا میں ذلت اور دوسروں کا گناہ اپنے ذمہ ہو جائے گا
امیرالمومنین(ع) یونیورسٹی اہواز کی پروفیسر کا کہنا تھا کہ رسولوں کو ہمیشہ سے مخالفین کا سامنا رہا ہے جن میں سر فہرست ذخیرہ اندوز، غاصب حکمران، راہب اور ویسے افراد جن کیلئے طبقاتی تفریق ضروری ہے ایسے افراد مومنوں کے ایمان کو کمزور کرنے کا سبب ہیں کہ جن کیلئے خداوند عالم نے دردناک عذاب کا وعدہ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے اپنے علمی مراکز میں کسب تحصیل کے اختتام پر ضروری ہے کہ اپنے اپنے وطن واپس پلٹا جائے اور تبلیغ دین بالخصوص جوان نسل تک دین پہنچانے کیلئے مختلف اقدامات کئے جائیں
امام جمعہ اهواز نے کہا کہ اولیاء الٰہی علیہم السلام عید سعید فطر کی صبح سے ہی اپنا مراقبہ شروع کر دیا کرتے تھے۔ اپنے تمام اعضاء و جوارح کی مراقبت کرتے تھے، تاکہ گناہ میں مبتلاء نہ ہو جائیں۔ رمضان کا مہینہ عبودیت و بندگی کی پریکٹس کا مہینہ تھا، لہٰذا جو کچھ اس مہینے میں خدا سے کسب کیا ہے اس کی حفاظت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت حمزہ علیہ السلام کے قریش کے درمیان معاشی و اقتصادی حالات بہت اچھے تھے لیکن آپ نے اپنے مقام کی پرواہ کئے بغیر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت کی اور ہر مقام پر آپ کا ساتھ دیا اور شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوئے۔