مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
انہوں نے کہا واقعہ میں 7 اساتذہ اور روڈ پر ایک دوسرا شخص شہید ہوا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا گیا ہے۔ تمام اساتذہ کا تعلق مکتب اہلبیتؑ ہے تھا۔ پاراچنار کے لوگوں نے دہشتگردوں کے ہاتھوں پہلے بھی بہت نقصان اٹھایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید علامہ مطهری، اپنے زمانے کے بہترین عالم، وظیفہ شناس و معاشرے کی ضرورتوں کو سمجھتے تھے ان کی عظیم شخصیت عوام بالخصوص نوجوان نسل سے ارتباط برقرار کرنے نیز ان کے اعتقادات پر بہت زیادہ تأثیر گزار تھی۔ آپ کی زندگی جہاد تبیین کا عملی نمونہ تھی۔
حوزہ علمیہ خواھران صوبۂ مرکزی کی اساتذہ میں سے محترمہ آشتیانی نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استاد کا مقام بہت بلند ہے اور پہلا معلم خود خدا ہے اور خدا نے قرآن کو واعظ و نصیحت کرنے والے کے طور پر متعارف کرایا۔
انہوں نے کہا کہ خداوند متعال نے "استاد" کا لقب خود سے مخصوص کیا ہے "الرحمن علم القرآن" ہمارے یہاں جمع ہونے کا مقصد اساتذہ کرام کا حق ادا کرنا نہیں کیونکہ تعلیم و تربیت کا حق ادا کرنا ممکن نہیں۔ علم یعنی زندگی اور کیسے ممکن ہے کی کوئی زندگی کا حق ادا کر پائے؟
آیت اللہ مرتضی مطہری کے یوم شہادت کے موقع پر منائے جانے والے یوم اساتذہ کی مناسبت سے اساتذہ اور ثقافتی امور کے فعال افراد سے خطاب کرتے ہوئے رہبر معظم نے فرمایا کہ اسکولوں میں زیرتعلیم بچوں کے اندر اسلامی اور ایرانی تشخص کو بھی زندہ کریں۔ بچوں کو ایرانی ہونے پر فخر کا احساس ہونا چاہئے۔
ملک کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی محنت کشوں اور ہنرمندوں کی انتھک کوششوں کے بغیر ممکن نہیں، مزدور ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں
ملک میں جاری سیاسی بحران کی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز اچھا اقدام ہے
دفتر مرکزی وفاق المدارس الشیعہ پاکستان سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کی طرف مختلف شعبہ میں 9 گریڈ سے لیکر 19 گریڈ تک کی سرکاری جاب ( نوکری) کا ایک ایڈ موصول ہوا جسمیں BPS-17 گریڈ ، اسلامیات لیکچرار کی بھی کافی ساری سیٹیں ہیں۔
مدرسہ امام المنتظر قم میں 8 شوال یوم انہدام بقیع کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہا کہ وہابیت ایک نیا مذہب ہے جو پہلے موجود نہیں تھا قدیم دور سے دو مذہب شیعہ و سنی چلے آرہے تھے لیکن یہ مذہب تیزی سے پھیلا شروع یہ مذہب اپنے سواء سب کی تکفیر کا قائل تھا ان کے نزدیک شیعہ و سنی میں کوئی فرق نہیں رکھتا جیسے ان کی تنظمیں داعش و طالبان نے فقط شیعہ کا قتل عام نہیں کیا بلکہ اہل سنت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔