مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
مملکت خداداد پاکستان اللہ کی عظیم نعمت ہے او ر کسی بھی ملکی ترقی،معیشیت اور امن کی بنیاد پر ہوتی ہے۔بڑی مشکل اور قربانیوں سے ملک میں امن قائم ہوا کہ اچانک ایک بل پیش کرکے ملک کے امن کو تہہ بالا کرنے کی مضموم کوشش ہوئی ہے۔
اسٹین ڈومینیکن اخبار نے اس ملک میں مسلمانوں کی صورتحال پر ایک رپورٹ پیش کی ہے کہ جمہوریہ ڈومینیکن میں رائج مذاہب میں سے ایک توحیدی مذہب (اسلام) ہے، جس کے پیروکاروں کی اس وقت پانچ مساجد ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سویڈن میں ہونیوالے توہین قرآن پاک کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہاہے کہ اس سے بڑھ کر کیا انتہاءپسندی ہوگی کہ انسانیت کےلئے رہنمائی کرنیوالی سب سے عظیم الہٰی آفاقی پیغام کی اس طرح توہین کی جائے
سوال1: توہین صحابہ کے بل میں توہین کی سزا اب 10 سال کر دی گئی ہے، جب کہ یہ بل قومی اسمبلی نے منظور بھی کر لیا ہے۔ آپ کی رائے میں اس وقت جب ہم عملی طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں، اس بل کو پیش کرنے اور منظور کرنے کی منطق کیا ہے؟
حجت الاسلام رضا خدری نے اسکول کے طلباء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلباء مختلف شعبوں میں مستحکم ایران کے مستقبل ساز ہیں۔ اسکول و کالجز کے طلباء مختلف شعبوں میں منصوبہ بندی کر کے ایک مضبوط ایران کیلئے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
قم المقدس میں حوزہ علمیہ قم کے استاد مہدویت حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ شیعہ سوشل میڈیا پر بعض غالی و اہل بدعت اس روایت کو شیعہ موجودہ فقہاء کے خلاف ذکر کرتے ہیں کہ جو درست نہیں ہے۔
حضرت آیت اللہ نوری ہمدانی نے سوئیڈن کے حالیہ اقدام اور قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مغربی آزادی بیان کا نعرہ، انسانی حقوق کے نعرے کی مانند جھوٹ پر مبنی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ قومی اسمبلی میں اراکین قانون سازی کو پڑھتے نہیں ہیں۔ پہلے بھی ٹرانسجینڈبل ، ختم نبوت کے حلف نامے کے حوالے سے قانون سازی سمیت دیگر کئی مقامات پر واضح ہوچکا ہے کہ ارکان اسمبلی کو پتہ نہیں ہوتا اور وہ اس کی حمایت میں ووٹ دے دیتے ہیں ۔
توہین صحابہ بل کی مذمت کرتے ہوئے حجت الاسلام و المسلمین علامہ جمعہ اسدی نے کہا کہ توہین رسالت ، اہلبیت، صحابہ اور اولیاء ایک مذہبی مسئلہ ہے ۔