امام حسینؑ کا مقصد حکومت یا شہادت نہیں بلکہ امت کی اصلاح تھا: رہبرِ شہید انقلاب
























اجلاس میں ایشیا بھر سے 15 پارلیمانی وفود شریک ہوئے ، جن میں پاکستان آذربائیجان، بحرین، کمبوڈیا، چین، قبرص، لبنان، فلسطین،، قطر، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان شامل ہیں
روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کےقرآن انسٹی ٹیوٹ کی بغداد میں موجود شعبہ کی جانب سے (الاشارہ فی القرآن الکریم) کے عنوان سے قرآن سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔
پہلوی دور حکومت بہت سے پہلوؤں سے ایران کی معاصر تاریخ کا ایک متضاد دور ہے اور ارضی سالمیت کے مسئلے میں یہ تضاد کچھ زیادہ ہی نمایاں ہے۔ پہلوی حکومت بظاہر اور اپنے دعوے کے مطابق اچھی خاصی فوجی طاقت کی حامل ہے لیکن اس کے دور میں اغیار کی جانب سے ایران کی ارضی سالمیت کی لگاتار اور بڑی شدت سے خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
امام جمعہ لکھنؤ مولانا سید کلب جواد نقوی نے ماہ محرم الحرام میں بڑے امام باڑے میں منعقد کی گئی مجلسوں کو لیکر انتظامیہ کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر اور عدالت میں داخل چارج شیٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ بڑا امام باڑہ مذہبی مقام ہے ،یہاں ہمیشہ کی طرح مجلس منعقد ہوتی رہیں گی ۔اگر مجلسوں پر پابندی لگائی گئی تو ہم اس کے خلاف تحریک شروع کریں گے اور کسی بھی طرح کے انجام کی پرواہ نہیں کریں گے.
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی شخصیات مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے انتقال کی خبر نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے۔
1979 میں اسلامی انقلاب کی کامیابی ایران کے اندر عظیم تبدیلیوں کا سرآغاز ثابت ہوئی۔ دنیا پر حکمفرما 'مین اسٹریم میڈیا' کا دعوی تھا کہ انقلاب کے بعد ایران کی پیشرفت کا سلسلہ رک جائے گا۔ سائنس و ٹیکنالوجی کا شعبہ ان شعبوں میں ہے جن کے بارے میں ذرائع ابلاغ کا دعوی ہے کہ تنزلی ہوئی۔ مگر موجودہ اعداد و شمار ان دعوؤں پر خط بطلان کھینچتے ہوئے بعد انقلاب ایران کی زبردست پیشرفت کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی نے کہا کہ حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی اکثر کہتے ہیں کہ دین، مقدسات اوروطن کے دفاع میں بندوق کے گھوڑوں کو جو انگلیاں دباتی ہیں ان انگلیوں کے بوسے کو اپنے لئےشرف سمجھتا ہوں، میدان جہاد میں موجود بہادروں کے قدموں کے نیچے کی خاک کو اپنے لئے متبرک اوراپنے لئےشرف سمجھتا ہوں۔
آستان قدس رضوی کے نائب متولی مصطفیٰ خاکسار قہرودی نے اپنے پیغام میں عصر حاضر میں سائبر اسپیس اور سوشل میڈیا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن اپنے نظریات کو بیان کرنے کے لئے سائبر اسپیس کا سہارا لیتا ہے اس لئے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ثقافتی دفاع کو پوری طرح سے مضبوط کیا جائے تاکہ دشمن کی مذموم سازشوں اور غلط نظریات کو روکا جا سکے ۔
انقلابی تحریک کی دسویں سالگرہ کے موقع پر اپنے بیان میں تاکید کی کہ بحرینی عوام کی دس سالہ استقامت و پائیداری ، جاں فشانی و قربانی اور اپنے جائز حقوق کا مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس انقلاب کی بنیادیں اور عناصر ایک ایسے مضبوط ، انصاف پسند اور عدالت محورملک کی تشکیل کی صلاحیت رکھتے ہیں جو استحکام ، قومی اتفاق رائے اور توسیع و ترقی کے لئے جیتا جاگتا آئیڈیل بن سکے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سرسید اکیڈمی اور دارا شکوہ مرکز تفاہم بین المذاہب و ڈائیلاگ کے ڈائریکٹر پروفیسر علی محمد نقوی کو تہران یونیورسٹی کی فیکلٹی آف نالج اینڈ اسلامک تھاٹ میں تین برس کے لیے ایڈجنکٹ پروفیسر مقرر کیا گیا ہے۔