غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























مؤمن، حقیقی مؤمن نہیں ہے مگر یہ کہ تین خصلتوں کا حامل ہے: ایک سنت اللہ کی، ایک سنت اپنے پیغمبر(ص) کی اور ایک سنت اپنے امام کی۔
اے ابن شبیب! اگر چاہتے ہو امام حسین (ع) کے ہمراہ شہید ہونے والے اصحاب کا ثواب ملے تو جب بھی حسین(ع) کی یاد آئے، کہو ’’يا ليتني كنت معهم فافوز فوزا عظيما‘‘
جب شیعہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ابا عبد اللہ الحسین کی مصیبت میں یوں تسلیت عرض کریں:اعظم اللہ اجورنا بمصابنا الحسین
خداوندا! جس نے تجھے کھو دیا، اسے کیا مل گیا اور جسے تو مل گیا، اس نے کیا کھو دیا؟!
میں موت کو سعادت لیکن ظالموں کے ساتھ زندہ رہنے کو ننگ و عار سمجھتا هوں ۔
الإمام الحسین علیہ السلام إِنّ شِيعَتَنَا مَنْ سَلِمَتْ قُلُوبُهمْ مِنْ كُلّ غِشّ وَغَلّ وَدَغَلٍ
آنکھوں کی نمی اور دلوں کی نرمی اللہ کی جانب سے عطا ہونے والی رحمت ہے
حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے اصحاب سے بہتر و برتر کسی کے اصحاب کاسراغ نہیں رکھتا، نہ ہی ہمارے گھرانے سے زیادہ نیکو کار اور مہربان کسی گھرانے کا مجھے علم ہے
میں تمہیں خدا کی کتاب اور رسول خدا کی سنت کی طرف دعوت دیتا ہوں کیونکہ (اس گروہ نے)سنت پیغمبر کو ختم کردیا ہے.