صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی کا کہنا ہے کہ فلسطین انبیاء کی سر زمین ہے جس پر صہیونی طاقتوں نے ظلم، جبراً ور قتل عام کے ذریعے قبضہ کر رکھا ہے،
راہبر معظم انقلاب آیۃ اللہ العظمیٰ خامنہ ای اس خوشخبری کی پیشنگوئی بہت سال پہلے کرچکے ہیں۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت برس پہلے اسرائیل کو سرطانی جرثومہ قرار دیا تھا اور آپ کی تاکید یہی تھی کہ جلد سے جلد اس جرثومے کو ملت مسلمہ نکال باہر کرے، تاکہ مسلمانان عالم سکھ کا سانس لے سکیں
مجلس علمائے مکتب اہل بیت جنوبی پنجاب کے صدر علامہ قاضی نادر حسین علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج صرف اسرائیل کو شکست نہیں ہوئی بلکہ امریکہ اور یورپ نے جتنی انویسٹمنٹ کر رکھی تھی اس کا خاتمہ ہو چکا ہے،
وفاق المدارس کے سربراہ نے کہا کہ آزادی کے بغیر بھی ترقی ممکن نہیں ۔ہم اس وقت آئی ایم ایف کے غلام بنے ہوئے ہیں ۔آئی ایم ایف سے قرض لیتے ہیں ،وہ ہمیں ڈکٹیٹ کرتا ہے حتیٰ کہ ہماری زبان بھی اپنی نہیں ہے۔
وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ عالمی برادری کو تنازعات کے خاتمے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، عالمی برادری مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے فوری مداخلت کرے۔
سابق وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل پر حماس کےحملوں کو مسجد اقصیٰ اور مقدس مقامات پر اسرائیلی کارروائیوں کا ردعمل قرار دے دیا۔
علامہ باقر عباس زیدی نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی جوابی کاروائیاں فلسطینی عوام کا حوصلہ بلند کریں گی، غزہ سمیت کئی فلسطینی علاقے مسلسل اسرائیلی جارحیت کا شکار ہیں
عارف علوی نے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق اور عوام پر غاصبانہ قبضے اور ظلم و ستم کی مذمت کے بغیر امن کی طرف پیش رفت ممکن نہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ فلسطین کے غیور مسلمان اپنے وطن کی جنگ لڑ رہے ہیں