صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سید مقاومت، نیک بندہ، ایک عظیم شہید و شجاع محبِ اہل بیت علیہم السلام، بہادر رہنما، ایک عقلمند، بابصیرت اور وفادار مؤمن کی حیثیت سے اپنے رب کی طرف چل بسے اور اس کی رضا کی طرف روانہ ہوئے اور اپنی اس شہادت سے شہداء کے لافانی کارواں میں شامل ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے شہری آبادیوں پر مسلسل حملے تشویشناک ہیں، عالمی قوانین کی پامالی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے، اسرائیل لبنان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ریلی سے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر حسن عارف،مجلس وحدت مسلمین کے وائس چئیرمین علامہ احمد اقبال رضوی اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ جواد نقوی نے مرکزی خطاب کیا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی ناسور کا واحد علاج اس کا خاتمہ ہے۔
ایم ڈبلیو ایم کے تحت صوبائی دارلحکومتوں سمیت ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور اجتماعات ہونگے۔
میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا کہ سید حسن نصراللہ اپنے جد امجد حضرت امام حسین علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہوئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ مسلم حکمرانوں اور افواج کو سوچنا ہوگا کہ وہ اس وقت کہاں اور کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ایک بیان میں ایس یو سی رہنما نے کہا کہ غاصب صہونی ریاست کی نابودی قریب ہے، اسرائیلی دہشت گردی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے، اسرائیلی مظالم، بربریت اور دہشت گردی کے خلاف عالمی عدالتیں اور اقوام متحدہ ایکشن لیں۔
انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس ظلم و نسل کشی کو نہ روکا گیا تو پھر اس کے اثرات خطے سمیت پوری دنیا پر پڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ اپنے پاکیزہ مقصد میں کامیاب ہوگئے اور وہ ظلم و ناانصافی کے خلاف پوری سچائی اور استقامت کے ساتھ کھڑے رہے