مجلس علماء امامیہ پاکستان کے زیر اہتمام آیت اللہ سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) کے چہلم کا انعقاد
























تعلیم تربیت کا بہترین ادارہ مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ گمبہ سکردو(سائنس سیکشن ) میں بہترین سکالرشب کے مواقع فراہم کررہا ہے جس میں آپ کم […]
شورای عالی انقلاب فرہنگی کے سیکریٹری حجت الاسلام والمسلمین عبدالحسین خسروپناه نے جامعۃ الزہراء کے ڈائرکٹر ، بورڈ آف ٹرسٹیز اور منتظمین سے ملاقات اور گفتگو کی
حجۃ الاسلام والمسلمین عالم زادہ نوری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مدارس ظہور امام زمانہ عج کی زمینہ سازی کے لیے سب سے موثر تعلیمی پلیٹ فارم ہیں کہا کہ دینی طلاب کے لئے سب سے زیادہ مہم تعلیمی سرگرمیاں ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ علمی تربیت کے لیے کام کریں اور امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عالمی تحریک کے لیے مضبوط انسان بننے کی ضرورت ہے۔
الخوئئ فاؤنڈیشن کے اعلی سطحی وفد نے جامعۃ الکوثر کا دورہ کیا جس کی سربراہی آیۃ اللہ العظمی سید ابوالقاسم الخوئی کے فرزند حجۃ الاسلام والمسلمین السید عبد الصاحب خوئئ کر رہے تھے۔
جامعه الزہراء (س) کے آڈیٹوریم میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران محترمہ ناہید طیبی نے حضرت معصومه قم (س) کی تربیتی شخصیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ (س) کی ولادت، آپ کی وفات اور آپ کی زندگی کا لمحہ بہ لمحہ تاثیر گزار ہے اور ہمیں اس پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔
بلتستان سے تعلق رکھنے والے متعدد طلباء کی ذاتی دلچسپی اور انکی جانب سے الحادی تفکرات سے نمٹنے کیلئے ضروری مہارت حاصل کرنے کی درخواست پر الدلیل انسٹیٹیوٹ شعبہ قم کی جانب سے ایک تربیتی ورکشاپ جامعہ روحانیت بلتستان کے شعبہ مبلغین کی زیر نگرانی منقعد ہورہا ہے۔
جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے شعبۂ تعلیم کی جانب سے ایم فل میں انٹری کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباء سے آزمائشی امتحان فاطمیہ ہال حسینیہ بلتستانیہ قم المقدس میں لیا گیا، جس میں پاکستان، افغانستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
دفتر مرکزی وفاق المدارس الشیعہ پاکستان سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کی طرف مختلف شعبہ میں 9 گریڈ سے لیکر 19 گریڈ تک کی سرکاری جاب ( نوکری) کا ایک ایڈ موصول ہوا جسمیں BPS-17 گریڈ ، اسلامیات لیکچرار کی بھی کافی ساری سیٹیں ہیں۔
مدرسہ امام المنتظر قم میں 8 شوال یوم انہدام بقیع کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہا کہ وہابیت ایک نیا مذہب ہے جو پہلے موجود نہیں تھا قدیم دور سے دو مذہب شیعہ و سنی چلے آرہے تھے لیکن یہ مذہب تیزی سے پھیلا شروع یہ مذہب اپنے سواء سب کی تکفیر کا قائل تھا ان کے نزدیک شیعہ و سنی میں کوئی فرق نہیں رکھتا جیسے ان کی تنظمیں داعش و طالبان نے فقط شیعہ کا قتل عام نہیں کیا بلکہ اہل سنت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہاکہ مولانا و طالب علم ایسے لوگوں سے معاشرت کرے کہ جو ظاہرا تدین رکھتے ہوں ہر ایک کے پاس جانا درست نہیں ہے جیسے امیر المومنین علیہ السلام کے پاس سب آتے تھے لیکن امیر المومنین علیہ السلام خاص لوگوں کے پاس جایا کرتے تھے۔