صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























اولو الامر کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر اسلامی معاشرے میں اولو الامر قانون کے محافظ امانتدار خدمت گزار، نظم و ضبط برقرار کرنے والے کے عنوان سے موجود نہ ہو تو دین میں رد و بدل کا امکان بڑھ جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دشمن شناس بنین، اپنے دشمن اور اس کے سازشوں کو پہچانیں، اپنے عقائد کو مضبوط کریں اور ہمیشہ ولایت فقیہ کے دامن کو تھامے رکھیں،
مدیر حوزہ علمیہ نے حوزہ اور معاشرے کے درمیان ربط کے لیے نظریہ پردازیِ واسط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: رسالت «بلاغ مبین» کو موجودہ عالمی تحولات کے پیمانے پر دوبارہ بیان اور تعریف کرنا ضروری ہے
آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن (AJKSA) کے زیر اہتمام منعقدہ جلوسِ میلاد النبیؐ میں عقیدت و اتحاد کے ساتھ ہزاروں مرد، خواتین اور بچے شریک ہوئے۔ یہ جلوس امامیہ پارک سے شروع ہوکر امام باڑہ زڈیبل پر اختتام پذیر ہوا۔ علما، ذاکرین، مدرسوں کے طلبا و اساتذہ، رضاکار خواتین اور عام شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے رحمت و عدل کے پیغامِ رسول اکرمؐ سے وابستگی کا اظہار کیا۔
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہفتہ وحدت کی مناسبت سے بین المسالک کانفرنس میں عالم اسلام کے اتحاد اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت پر زور دیا گیا
مدرسہ الولایہ قم میں ہفتہ وحدت کی مناسبت سے فکری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں حجة الاسلام والمسلمین علامہ امین شہیدی صاحب نے اساتید و طلاب حوزہ سے خطاب فرمایا
مدرسہ حیدریہ سید چھپرہ ضلع کرنال ہریانہ ہندوستان میں اس سال صادقین فاؤنڈیشن قم المقدسہ ایران کے زیرِ اہتمام جشنِ عید میلاد النبی و امام جعفر صادق علیہ السلام نہایت شاندار انداز میں منایا
انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں وکشمیر کے تحت ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے بڈگام میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی؛ تقریب کے بعد حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ سے مرکزی امام بارہ بڈگام تک ایک بے نظیر ریلی نکالی گئی
الثقلین انسٹی ٹیوٹ فار اسلامک اسٹڈیز اینڈ سائنسز کے سربراہ نے کہا: آج وحدت اسلامی محض ایک اخلاقی نعرہ یا دینی سفارش نہیں بلکہ ایک وجودی ضرورت ہے۔ ہفتہ وحدت مسلمانوں کے درمیان روابط کو مضبوط کرنے اور امت اسلامی کی طاقت کو یکجا کرنے کا بہترین موقع ہے
ائمہ اور عادل فقہا اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ حکومتی نظام اور ڈھانچے کو اس مقصد کے لیے استعمال کریں
نمائندہ ولی فقیہ خراسان رضوی نے کہا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت کا تقارن محض ایک تاریخی اتفاق نہیں بلکہ انسانی تاریخ میں بنیادی تبدیلیوں اور تحولات کا آغاز ہے