صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























اولو الامر کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر اسلامی معاشرے میں اولو الامر قانون کے محافظ امانتدار خدمت گزار، نظم و ضبط برقرار کرنے والے کے عنوان سے موجود نہ ہو تو دین میں رد و بدل کا امکان بڑھ جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دشمن شناس بنین، اپنے دشمن اور اس کے سازشوں کو پہچانیں، اپنے عقائد کو مضبوط کریں اور ہمیشہ ولایت فقیہ کے دامن کو تھامے رکھیں،
جامعة المصطفیٰ العالمیه نے ایک بیان میں سوئیڈن میں قرآن مجید کی توہین پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
جشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا آغا ذوالفقار حیدر نے کہاکہ مبلغ کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی تہذیب کرے اس کے بعد منبر پر جائے تاکہ اس کی باتوں میں تاثیر پیدا ہو دوسرا یہ کہ لوگوں میں خوف خدا پیدا کرنے سے پہلے خود خوف خدا رکھتا ہو۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان شعبہ قم کے مدیر نے کہاکہ قرآن کی رو سے مبلغ کی خصوصیت خوف خدا ہے ایک مبلغ کو لوگوں کا خوف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خدا کے ہوتے ہوئے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور مال و دولت شہرت سب کچھ خدا دینے والا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مبلغ کے لئے مطالعہ ضروری ہے ورنہ اس کی شخصیت کو قبول نہیں کیا جائے گا اور لوگ موضوعاتی گفتگو کو پسند کرتے ہیں لہذا مبلغ کو چاہیے کہ موضوعاتی گفتگو کرے اور اس گفتگو کو قصص و اشعار و آیات و روایات کے ذریعے مزین کرے۔
مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت سنجیدہ نہ رہے عوام الناس سے ہنسی مزاق کرے اور ان میں گھل مل جائے ان کی باتوں کو سنے اور سمجھنے کی کوشش کرے تاکہ لوگ اس سے اپنا خیر خواہ سمجھیں اسی طرح مبلغ کی ذمہ داری ہے کہ مستحبات کا خیال رکھے فقط واجبات پر اکتفاء نہ کرے۔
مدرسہ الامام المنتظر قم ایران میں محفل جشن سے خطاب میں استاد حوزہ علامہ غضنفر حیدری نے کہاکہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی کل زندگی اٹھارہ برس کی تھی اور اس مختصر سی زندگی کے ہر پہلو میں درس موجود ہیں انسان کی زندگی ختم ہوجائے گی لیکن ان پہلوؤں کی حقیقت تک نہیں پہنچے گا۔
15روزہ وفاق میں عالم اسلام کے دینی مدارس کی خبریں سمیت مراجع عظام،علمائے کرام کے مختلف بیانات اور مقالہ جات شامل ہیں.
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے سالانہ امتحانات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے۔اعلامیہ کے مطابق سالانہ امتحانات 13مارچ سے شروع ہوں گے اور16 مارچ تک جاری رہیں گے۔
جدید دنیا کی ماڈرن ضروریات کے مطابق علومِ دین کو نئی مہارتوں اور جدید اسالیب کے ساتھ سیکھنا اور سکھانا اس یونیورسٹی کی انفرادیت ہے۔ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں اس یونیورسٹی کے تعلیمی نیٹ ورک کی موجودگی سے کسی کو انکار نہیں۔