صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























اولو الامر کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر اسلامی معاشرے میں اولو الامر قانون کے محافظ امانتدار خدمت گزار، نظم و ضبط برقرار کرنے والے کے عنوان سے موجود نہ ہو تو دین میں رد و بدل کا امکان بڑھ جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دشمن شناس بنین، اپنے دشمن اور اس کے سازشوں کو پہچانیں، اپنے عقائد کو مضبوط کریں اور ہمیشہ ولایت فقیہ کے دامن کو تھامے رکھیں،
امسال ماہ مبارک رمضان میں وطن عزیز کے مختلف علاقوں میں انس بہ قرآن کی محافل کا بطور خاص انعقاد کیا گیا ہے جس کا مقصد وحید لوگوں کو قرآنی انس و ارتباط کی لذت سے آشنا کرنا اور قرآن سے بڑھتی ہوئی دوری کے رویوں کو قربت میں بدلنا ہے
تقریب کے مہمان خصوصی شیخ الجامعۃمفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی تھے جنہوں نے اپنے خطاب مستطاب میں دور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا احوال اور بعد از وصال حضرت رسالت مآب حضرت فاطمۃ الزہراء س، حضرت علی ع اور حضرت امام حسن ع کے ساتھ روا رکھے گئے مظالم کا ذکر کیا۔
15روزہ وفاق میں عالم اسلام کے دینی مدارس کی خبریں سمیت مراجع عظام،علمائے کرام کے مختلف بیانات اور مقالہ جات شامل ہیں.
15روزہ وفاق میں عالم اسلام کے دینی مدارس کی خبریں سمیت مراجع عظام،علمائے کرام کے مختلف بیانات اور مقالہ جات شامل ہیں.
15روزہ وفاق میں عالم اسلام کے دینی مدارس کی خبریں سمیت مراجع عظام،علمائے کرام کے مختلف بیانات اور مقالہ جات شامل ہیں.
15روزہ وفاق میں عالم اسلام کے دینی مدارس کی خبریں سمیت مراجع عظام،علمائے کرام کے مختلف بیانات اور مقالہ جات شامل ہیں
حوزہ ہائے علمیہ ایران کے شعبہ ارتباطات اور بین الاقوامی تعلقات کے مدیر حجت الاسلام و المسلمین حسینی کوہساری نے مدرسہ فیضیہ میں آل سعود کی بربریت کے خلاف عظیم احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں کہاکہ ہم حوزہ ہائے علمیہ، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، حوزہ علمیہ کی شورائے عالی، حوزہ علمیہ کی مدیریت اور مراجع تقلید کی نمائندگی اور تمام حوزوی اور مدارس اور شخصیات کی نمائندگی کرتے ہوئے اس دردناک واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔
اسکتبار جہانی کی ایما پر دنیا بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کے خلاف حوزہ علمیہ قم میں علماء اور طلباء سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام کی موجودگی میں آل سعود اور استکباری قاتلوں کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
علماء کرام کا کہنا تھا کہ شہداء کا پاکیزہ خون اقوام کے لیے سعادت و پاکیزہ زندگی کا موجب ہے۔زندہ و بیدار قومیں اپنے محسنین کو یاد رکھتی ہیں اس لیے ہمیں شہداء کی یاد منانی چاہیے اور ان کے مشن کو زندہ رکھنا چاہیئے اور شہداء کے پسماندگان کا خیال رکھنا ہماری اخلاقی و انسانی ذمہ داری ہے۔