یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
ہم میدان کربلا میں ایک میٹر زمین کھود کر پانی کے موجود ہونے کی جھوٹی کہانی سے پیاس کی خبروں پر سوال نہیں اٹھا سکتے اور امام حسین علیہ السلام کے اہل بیت پر پانی روکنے کی تردید تاریخ میں ناقابل انکار ہے۔
حوزہ کی محققہ نے کربلا اور واقعہ عاشورا میں اہل خانہ کی موجودگی کی اہمیت اور وجوہات بیان کیں۔
اگر ہم اہل بیت علیہم السلام کی سیرت سے واقف ہوں اور امام معصوم علیہ السلام کے پیروکاروں کے طرزِ عمل سے واقف ہوں تو ہم سمجھیں گے کہ غم و اندوہ کا شبہ شیعہ مکتب میں بنیادی طور پر غلط ہے۔
عبیداللہ بن زیاد نے کوفہ کے لوگوں کو مسجد میں جمع کیا اور تقریر کی اور ساتھ ہی لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جنگ میں شرکت کی ترغیب دی۔ جس کہ نتیجے میں 4 گروہوں کی شکل میں 13 ہزار افراد اس جنگ کے لیے آمادہ ہوئے۔
روز عاشورا جب امام حسین علیہ السلام سے کہاگیا کہ یزید کی حکومت کو تسلیم کرلو اور اس کی بیعت کرلو اور اس کے مرضی کے سامنے تسلیم ہوجاؤ! تو آپؑ نے جواب دیا:نہیں، خدا کی قسم میں اپنے ہاتھ کو ذلیل و پست لوگوں کی طرح تمہارے ہاتھ میں نہیں دوں گا، اور تم سے میدان جنگ میں غلاموں کی طرح نہیں بھاگوں گا اور پھر یہ نعرہ بلند کیا: اے خدا کے بندو! میں ہر اس متکبر سے جو روز حساب پر ایمان نہ لائے اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ چاہتا ہوں۔
آپکی تصانیف کی تعداد 140 بتای جاتی ہے جنمیں مشہور کتابیں احقاق الحق اور مجالس المومنین ہیں
موضوع سخن : پروردگار کی عدالت ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے مکتب اہل تشیع اور اہلسنت کے اختلاف کو بیان کیا اور واضح کیا کہ ہم کیوں عدل کو اصول دین میں پیش کرتے ہیں اور عدلیہ کہلاتے ہیں۔
جو شخص اللہ کے دین سے بغاوت کرتا ہے، قوت ربانی کو کچلنے کی کوشش کرتا ہے چند دنوں کے لئے اسے ڈھیل دی جاتی ہے تاکہ وہ ظلم میں اپنی انتہاء اور بدبختی میں اپنی آخری حد کو پہنچ جائے۔ جب اس کا ظلم اپنے انجام کو پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ کا عذاب اور گرفت آتی ہے، اسے نیست و نابود کر دیا جاتا ہے اور آنے والی نسلوں میں اس کا نام تک لینے والا کوئی نہیں ہوتا
موضوع سخن : بحث عدل ہے۔ گذشتہ درس میں عدلیہ مکتب کہ جس میں شیعہ بھی ہیں اور اہل سنت کا مکتب معتزلہ ہے ان کے دلائل پیش کئے گئے۔ آج اہلسنت مکتب عدالت کے منکرین اشاعرہ مسلمان بھائی (دیوبندی و بریلوی،وھابی وغیرہ اور ایک فرقہ ماتریدیہ وہ بھی اشاعرہ سے ملتا جلتا ہے ) کے دلائل پیش کریں گے۔