غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
28 صفر کا دن پوری دنیا کے لیے غم و حزن کی یادوں سے وابستہ ہے کیونکہ پوری دنیا کے لیے رحمت بن کر آنے والے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی دن ہمیشہ کے لیے اس ظاہری دنیا کو خیر باد کہا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
موضوع سخن انتظار ہے۔ ہم زمانہ غیبت میں جو اہم ترین وظیفہ رکھتے ہیں وہ مولاؑ کا عقیدہ ،علم و عمل ہر اعتبار سے انتظار ہے۔ انتظار کو بڑھانے میں دو چیزوں کا بڑا کردار ہے
ابو لادیان جو امام عسکریؑ کے غلام ہیں کہتے ہیں امام ؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں کچھ خطوط دئے اور فرمایا ان کو مدائن شہر میں پہنچا دو ۔ تم 15 دن کے بعد سامرہ پلٹو گے اور میرے گھر سے نالہ و شیون کی آواز سنو گے
ملک کی موجودہ صورتحال کو سامنےرکھتےہوئے یکم ربیع الاول کا پروگرام ملتوی کردیا گیا۔ اس پروگرام کےملتوی ہونےکے بعد یہ فقیر چند اہم لیکن پراگندہ نکات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہے۔
سنی شیعہ متحدہ اجتماعات میں آپ کو بہت پسند کیا جاتاتھا لوگ آپکی تقریر کے گرویدہ تھے برجستہ اور بر محل تقریر دلکش اور بھاری بھر کم انداز
امام جعفر صادق علیه السلام فرماتے ہیں: دل برداشتہ نہ ہونا کہ تم کربلا نہ پہنچ سکے، اس دن دل سے کربلا کو یاد کرو اور کربلا کے غم کو یاد کرنا یعنی تم کربلا میں ہی ہو، دل سے آہ و بکا تو کر ہی سکتے ہو؟ ممکن ہے تمہارے اس ایک آه و بکا کا ثواب زیارت سے زیادہ ہو۔
اربعین یعنی عاشورا کے عالمی انقلاب کے چالیس دن گزر جانے کے بعد سید و سردار کی یاد منانے کا عالمی دن۔
مومن وہ ہے جو باعمل ہو، امام مہدی (ع) کے ساتھ مخلص ہو، حقیقی سچا انتظار کر رہا ہو، ظہور کے لیے مکمل تیار ہو
آغا عباس رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 29جمادی الثانی 1280ہجری کو ہوئی۔ جب آپ بیس برس کے تھے تو تحصیل علم کی خاطر کشمیر کا رخ کیا