05آوریل
رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ خامنہ ای ” دام ظلہ ” کی مختصر سوانح حیات

رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ خامنہ ای ” دام ظلہ ” کی مختصر سوانح حیات

رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے

25اکتبر
ارشد شریف، غمِ حیات زیادہ ہے اور خوشی کم ہے

ارشد شریف، غمِ حیات زیادہ ہے اور خوشی کم ہے

قرآن حکیم کا بیان کردہ ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ حضرت موسیٰ کو جب فرعون کے دربار کے اندر سے کسی نے خبر دی کہ حکمران آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو حضرت موسیٰ جس عالم میں مصر سے نکلے، اُس کی تصور کشی یوں کی گئی ہے:

24اکتبر
کوئی ایران کو اسلحہ نہ بیچے سے ایران اسلحہ نہ بیچے تک کا سفر

کوئی ایران کو اسلحہ نہ بیچے سے ایران اسلحہ نہ بیچے تک کا سفر

امریکہ اور یورپ صرف اسلحہ فروخت نہیں کرتے، اسے کنٹرول بھی کرتے ہیں۔ ہم نے پیسے دیکر ایف سولہ طیارے لے رکھے ہیں، مگر ہم انہیں انڈیا کیخلاف استعمال نہیں کرسکتے تو کیا ہم نے یہ اچار ڈالنے کیلئے رکھے ہوئے ہیں؟

24اکتبر
ختمِ نبوّت کے بعد نظامِ حیات کا منبع

ختمِ نبوّت کے بعد نظامِ حیات کا منبع

قرآن مجید اور سُنّتِ نبوی ؐکا مقصد "ہدایتِ بشر" ہے۔ آیات و روایات کو صرف رٹہ لگا کر حفظ کرنے سے یہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ ہر مسلمان اِس پر ایمان رکھتا ہے کہ قرآن اور احادیث کے اندر اُس کیلئے مکمل نظامِ حیات موجود ہے۔ یعنی مسلمانوں کیلئے قرآن اور احادیث ایک نظامِ حیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک غیر نبوی ؐ و غیر قرآنی نظامِ حیات، چاہے مغرب میں رہنے والے بنائیں یا مشرق میں، چاہے مکہ و مدینہ میں رہنے والے بنائیں یا کوفہ و شام والے، چاہے گورے انگریز بنائیں یا سیاہ افریقائی، ایسا کوئی بھی نظام مسلمانوں کیلئے نظامِ حیات نہیں ہے۔ "قرآن و سُنّت" صرف نبیﷺ کی ظاہری زندگی کے دور میں نظامِ حیات نہیں تھے بلکہ نبی پاک ؐ کے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی "قرآن و سُنّت" کو مسلمانوں کیلئے ایک مکمل نظامِ حیات کی حیثیت حاصل ہے۔ عصرِ حاضر میں بھی اور قیامت تک بھی، اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید اور اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہﷺ ہماری ہدایت کے ذمہ دار ہیں۔

23اکتبر
اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کی ترقی اور نمایاں کامیابیاں

اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کی ترقی اور نمایاں کامیابیاں

ایران میں فی 100,000 خواتین کے تناسب سے60 دائیاں اور 2.8 زچگی کے ماہرین ڈاکٹرز کی موجود ہیں۔ 100 فیصد شہری رہائشیوں اور 99فیصد دیہاتیوں اور خانہ بدوشوں کے لیے قومی ہیلتھ کوریج نیٹ ورک کا نفاذ ہے

22اکتبر
اشرف سراج گلتری کی کتاب اور دعوتِ عام

اشرف سراج گلتری کی کتاب اور دعوتِ عام

ہمیں حقائق چھپانے کے بجائے حقائق جاننے کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرنی چاہیئے۔ ہمیں سوچ پر پہرے بٹھانے کے بجائے ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے چاہیئے کہ کیا اللہ کے رسولﷺ نے اپنے وصال کے بعد مسلمانوں کو سقیفہ میں جمع ہونے کا حکم دیا تھا۔؟

17اکتبر
انقلاب تراشی سے پہلے انقلاب شناسی

انقلاب تراشی سے پہلے انقلاب شناسی

آج ایران میں اسلامی انقلاب کامیابیوں کی منازل طے کرتا جا رہا ہے۔ ایران کی پُختہ اور معتدل انقلابی قیادت ہر امتحان اور آزمایش میں پوری اُتر رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے اندر بھی انقلاب اور تبدیلی کی باتیں کی جاتی ہیں۔ البتہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم آج بھی پیش نماز کے پیچھے تکبیرۃ الاحرام میں "اللہ اکبر خمینی رہبر" اور "مُردہ باد دُشمنِ ولایت فقیہہ" کہنے والے مرحلے پر ہی رُکے ہوئے ہوں۔

10اکتبر
انسانی معاشرہ زندہ اور علم کا پیاسا ہے،محمد علی اذرشب

انسانی معاشرہ زندہ اور علم کا پیاسا ہے،محمد علی اذرشب

انہوں نے اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا: ان چیلنجوں کا پیدا ہونا اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ اسلامی ممالک ترقی، نمو اور ترقی اور ایک نئی اسلامی تہذیب کی تعمیر کے میدانوں میں اپنی قوموں کے اہداف اور امیدوں کا ادراک نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہ وہ مقصد ہے جس کا وہ تعاقب کر رہے ہیں۔

09اکتبر
افغانستان میں خون کی ہولی اور عالمی بے حسی

افغانستان میں خون کی ہولی اور عالمی بے حسی

حملے میں شہید ہونے والی ایک بچی کی والدہ نے الجزیرہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بچی حال ہی میں مارشل آرٹس اور انگلش کی کلاسز میں شرکت کرنا شروع ہوئی تھی۔ ایک اور شہید ہونے والی بچی کی کاپی میں لکھا ہوا تھا کہ وہ ناول نگار بننے کا شوق رکھتی ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والی 17 سالہ بچی مریم فاروز کہتی ہے: "میں ریاضی کا ایک سوال حل کر رہی تھی کہ اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ ہم سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اتنے میں ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ ہم نے قلم اور کاپیاں چھوڑ کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ ہم سب اپنی جان بچانے کی کوشش میں تھے کہ اتنے میں خودکش دھماکہ ہو گیا۔"

26سپتامبر
خیبر پختونخوا کے نصاب میں حضرت ابو طالبؑ کی تکفیر پر مشتمل گستاخانہ مواد

خیبر پختونخوا کے نصاب میں حضرت ابو طالبؑ کی تکفیر پر مشتمل گستاخانہ مواد

یہ مسئلہ محض اگلے ایڈیشن میں تبدیلی کی یقین دہانی سے حل نہیں ہوتا، اس ایڈیشن کی لاکھوں کتابیں اب تک ہزاروں اسکولوں میں تقسیم ہوچکی ہیں، فی الفور ان کتب کی واپسی بھی ممکن نہیں، لہذا صوبائی حکومت کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف تمام تر اسکولوں میں اس کتاب پر پہلے فوری پابندی عائد کرنی ہوگی.