زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
تحریر: ارشاد حسین ناصر وطن عزیز پاکستان کا قیام برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی ان گنت، عظیم قربانیوں کے بعد معرض وجود […]
قرآن حکیم کا بیان کردہ ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ حضرت موسیٰ کو جب فرعون کے دربار کے اندر سے کسی نے خبر دی کہ حکمران آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو حضرت موسیٰ جس عالم میں مصر سے نکلے، اُس کی تصور کشی یوں کی گئی ہے:
امریکہ اور یورپ صرف اسلحہ فروخت نہیں کرتے، اسے کنٹرول بھی کرتے ہیں۔ ہم نے پیسے دیکر ایف سولہ طیارے لے رکھے ہیں، مگر ہم انہیں انڈیا کیخلاف استعمال نہیں کرسکتے تو کیا ہم نے یہ اچار ڈالنے کیلئے رکھے ہوئے ہیں؟
قرآن مجید اور سُنّتِ نبوی ؐکا مقصد "ہدایتِ بشر" ہے۔ آیات و روایات کو صرف رٹہ لگا کر حفظ کرنے سے یہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ ہر مسلمان اِس پر ایمان رکھتا ہے کہ قرآن اور احادیث کے اندر اُس کیلئے مکمل نظامِ حیات موجود ہے۔ یعنی مسلمانوں کیلئے قرآن اور احادیث ایک نظامِ حیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک غیر نبوی ؐ و غیر قرآنی نظامِ حیات، چاہے مغرب میں رہنے والے بنائیں یا مشرق میں، چاہے مکہ و مدینہ میں رہنے والے بنائیں یا کوفہ و شام والے، چاہے گورے انگریز بنائیں یا سیاہ افریقائی، ایسا کوئی بھی نظام مسلمانوں کیلئے نظامِ حیات نہیں ہے۔ "قرآن و سُنّت" صرف نبیﷺ کی ظاہری زندگی کے دور میں نظامِ حیات نہیں تھے بلکہ نبی پاک ؐ کے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی "قرآن و سُنّت" کو مسلمانوں کیلئے ایک مکمل نظامِ حیات کی حیثیت حاصل ہے۔ عصرِ حاضر میں بھی اور قیامت تک بھی، اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید اور اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہﷺ ہماری ہدایت کے ذمہ دار ہیں۔
ایران میں فی 100,000 خواتین کے تناسب سے60 دائیاں اور 2.8 زچگی کے ماہرین ڈاکٹرز کی موجود ہیں۔ 100 فیصد شہری رہائشیوں اور 99فیصد دیہاتیوں اور خانہ بدوشوں کے لیے قومی ہیلتھ کوریج نیٹ ورک کا نفاذ ہے
ہمیں حقائق چھپانے کے بجائے حقائق جاننے کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرنی چاہیئے۔ ہمیں سوچ پر پہرے بٹھانے کے بجائے ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے چاہیئے کہ کیا اللہ کے رسولﷺ نے اپنے وصال کے بعد مسلمانوں کو سقیفہ میں جمع ہونے کا حکم دیا تھا۔؟
آج ایران میں اسلامی انقلاب کامیابیوں کی منازل طے کرتا جا رہا ہے۔ ایران کی پُختہ اور معتدل انقلابی قیادت ہر امتحان اور آزمایش میں پوری اُتر رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے اندر بھی انقلاب اور تبدیلی کی باتیں کی جاتی ہیں۔ البتہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم آج بھی پیش نماز کے پیچھے تکبیرۃ الاحرام میں "اللہ اکبر خمینی رہبر" اور "مُردہ باد دُشمنِ ولایت فقیہہ" کہنے والے مرحلے پر ہی رُکے ہوئے ہوں۔
انہوں نے اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا: ان چیلنجوں کا پیدا ہونا اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ اسلامی ممالک ترقی، نمو اور ترقی اور ایک نئی اسلامی تہذیب کی تعمیر کے میدانوں میں اپنی قوموں کے اہداف اور امیدوں کا ادراک نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہ وہ مقصد ہے جس کا وہ تعاقب کر رہے ہیں۔
حملے میں شہید ہونے والی ایک بچی کی والدہ نے الجزیرہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بچی حال ہی میں مارشل آرٹس اور انگلش کی کلاسز میں شرکت کرنا شروع ہوئی تھی۔ ایک اور شہید ہونے والی بچی کی کاپی میں لکھا ہوا تھا کہ وہ ناول نگار بننے کا شوق رکھتی ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والی 17 سالہ بچی مریم فاروز کہتی ہے: "میں ریاضی کا ایک سوال حل کر رہی تھی کہ اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ ہم سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اتنے میں ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ ہم نے قلم اور کاپیاں چھوڑ کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ ہم سب اپنی جان بچانے کی کوشش میں تھے کہ اتنے میں خودکش دھماکہ ہو گیا۔"