صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
اور سوچ سمجھ کر بولنا عقل کے کمال کی علامت ہے۔ مولا ایک جگہ فرماتے ہیں: "جب عقل کامل ہوتی ہے تو باتیں کم ہوجاتی ہیں۔
بعض سیاسی تجزیہ کار اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح مسئلہ فلسطین کے بارے میں یکطرفہ پالیسیاں اختیار نہیں کریں گے اور قدرے معتدل پالیسی اپنائیں گے۔ لیکن بعض حقائق ایسے ہیں جن پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بائیڈن بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح امریکی سکے کا ایک رخ ہے۔
ہندوستان جب انگریز سامراج کے پنجۂ استبداد میں کراہ رہا تھا۔ ان کا دین و مذہب، عزت و عصمت اور جان و مال یرغمال بن گیا تھا۔ بھارت کی سرزمین پر غلامی کے سیاہ بادل مکمل طور پر قبضہ جما چکے تھے تو آزادی کے متوالوں نے ظلم و جبر کی بیڑیوں کو توڑنے کا عہد اٹھایا اور فرنگیوں کے ظلم و زیادتی پر قدغن لگانے کے لیے اپنی حیات و زیست کو مادر وطن کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔
استاد کی کامیابی وناکامی کا فیصلہ کرنےکی اتهارٹی ہرکسی کے پاس نہیں ہوتی،ہرکسی کا خود ساختہ معیارمعلم کی کامیابی وناکامی کی بنیاد نہیں بن سکتا ،بلکہ اس کا معیار فقط وہی درست ہوسکتا ہے جسے ماہرین تعلیم نے بنایا ہو -
جدید اردو ادب کی تاریخ کراچی سے تعلق رکھنے والے سید ریحان عباس رضوی المعروف ریحان اعظمی ڈاکٹر ریحان اعظمی کے ذکرکے بغیر نامکمل رہے گی، وہ ایک استاد، صحافی اور قلمکار ہونے کے ساتھ ایک ایسے شاعر تھے کہ جنہوں نے اپنی شاعری کو فقط اہل بیت اطہار علیہم السلام کے ذکر فضائل و مصائب کے لئے وقف کردیا تھا۔
مرثیہ گو شاعر ڈاکٹر ریحان اعظمی 26 جنوری کی غمناک صبح کو دنیا سرائے سے کُوچ کر گئے ۔وہ مرثیہ نگاری سے پہلے شوبز سے وابستہ تھے پھرانہوں نے غزل اور گیت کو چھوڑ کر خود کو صرف مرثیہ نگاری تک محدود کرلیا تھا۔ جیسے لکھنو کے معروف مرثیہ گو شاعر میر انیس نے غزل کو ترک کرکے صرف مرثیہ گوئی میں اپنا لوہا منوایا تھا ۔
قارئین! امریکہ میں روز بروز موت کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ ہم نے سوچا تھا 2020 اپنی نحوست کو لے کر رخصت ہوگا اور انسانیت کو 2021 میں سکھ کا سانس لینا نصیب ہو گا۔ مگر اب تو لگتا ہے 2021 سب کو مارکے ہی دم لے گا ۔ زمانے کی برائی کی مذمت نہ ہوتی تو کہتے زمانہ ہمارے ساتھ کیا سے کیا کر گیا؟
یہ سوال کیوں کر ذہن میں آیا کہ ہر اچھے کام کا اچھا کہنا کافی ہے ؟ کیا خوب و بد کی تمیز کرنا کافی ہے ؟ یقینی بات ہے ہر عاقل آدمی یہی کہے گا نہیں! کیونکہ یہ انسانیت کے پہلا قدم اور پہلا مرحلہ ہے یہ مقدمہ ہے ذی المقدمہ کا ہونا ضروری ہے ۔ مگر آج کل کچھ زیادہ ہی ان باتوں کو دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے؟
شہید جہاد کے والد "قدس" کی آزادی کو اپنا اولین ہدف سمجھتے تھے جنکا یہ مشہور جملہ "ہدف واضح دقیق اور معین ہے اور وہ اسرائیل کا جڑ سے خاتمہ ہے" زبان زدِ عام ہے۔