مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























حجت الہیٰ کے تکوینی آثار و برکات نظام خلقت اور کائنات کا باقی ہونا ہے۔ یعنی ان کی وجہ سے زمین و آسمان قائم ہیں ۔اسی طرح حجت خدواندی اور انسان کامل کے بغیر کائنات بے معنی ہے۔
معاشرہ اگر اس وقت برائی کی طرف جارہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ عقیدے کا کمزور ہونا ہے لہذا عقائد کے مباحث کو بیان کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
مولا علی علیہ السلام کی اس حکمت پر غور کرنے سے سمجھ آجاتا ہے کہ آپ علیہ السلام ایک بہت ہی اہم نکتے کی طرف ہماری توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ممکن ہے انسان کو زندگی کے دوران پیچیدگیوں اور مشکلات کا سامنا ہو،مقاصد اور آرزوؤں کے حصول میں رکاوٹیں پیش آسکتی ہیں اور اگر اس نے اس طرح کے معاملات میں، صبر کا دامن چھوڑ دیا اور اللہ تعالی سے وابستہ اپنی امید کو ناامیدی میں بدل دیا،تو ہرگز مطلوبہ نتائج تک رسائی ممکن نہیں ہوگی۔
علماء تشیع و تسنن کی مشترکہ روایات امام مہدی (عج) کی ذات ان کے ظہور اور ان کے ولی اللہ الاعظم کے عنوان سے تسلسل کے ساتھ وارد ہوئی ہیں
انہوں نے مزید کہاکہ شیعہ عقائد کے مبانی کی رو سے ہم سب کا اس بات پر پختہ عقیدہ ہے کہ حضرت امام زمان علیہ السلام جسمانی طور پر ہمارے درمیان ہیں اور معاشرے کی رہبری فرما رہے ہیں؛ یعنی: آپ علیہ السلام ناشناختہ طور پر معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور لوگ انہیں نہیں پہچان پاتے۔کیونکہ روایات کے مطابق امام علیہ السلام بھی دوسرے لوگوں کی مانند ایک عام اور طبعی زندگی گزار رہے ہیں، ایسی صورت میں کچھ لوگ انہیں دیکھتے بھی ہیں ؛ لیکن پہچانتے نہیں ہیں۔
محقق مہدویت حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہاکہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم ارواحنا لہ الفداء سے اس وقت ملاقات ممکن ہے جب امام علیہ السلام خود چاہیں اور کسی شخص یا فقیہ سے ملاقات کرنے میں آپ خود مصلحت جانیں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت ممکن نہیں ہے۔اب یہ کہ کوئی شخص جب چاہے، جہاں چاہے امام علیہ السلام کی ملاقات کو جائے اور جو شخص امام علیہ السلام سے اس طرح کی ملاقات کا دعویٰ کرتا ہے وہ کذاب اور جھوٹا ہے۔
نشست کے آغاز میں استاد حوزہ اور محقق مہدویت حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہاکہ اب تک امام زمان علیہ السلام سے جن افراد کی ملاقاتیں ہوئی ہیں وہ ایک خاص ماحول میں ہوئی ہیں؛ لیکن کچھ لوگ امام زمان علیہ السلام سے ملاقات کا دعویٰ کرکے لوگوں کے عقائد سے سوء استفادہ کرتے ہیں؛ نیز دین اور اسلامی معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اعْتَصِمُوا بِالذِّمَمِ فِي أَوْتَادِهَا
حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور کے سابقہ مدرس اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے چیف اکاؤنٹنٹ حجۃ الاسلام مولانا سید ارشد حسین جعفری انتقال کر گئے ہیں.