مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























دنیائے اسلام کے نامور عالم دین حضرت آیت اللہ العظمی شیخ لطف اللہ صافی گلپائیگانی کی رحلت کی افسوس ناک خبر سنی۔ ان کے اس دنیا سے اٹھ جانے سے ان کے دوستوں اور چاہنے والوں میں صف ماتم بچھ گئی اور شدید صدمہ پہنچا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اس پیغام میں آیت اللہ صافی گلپائیگانی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مرجع تقلید کی دینی، علمی اور سماجی خدمات کی فہرست ان کی بابرکت عمر کی طرح طولانی اور بہت درخشان ہے
یوم یکجہتی کشمیر پر وزیراعظم کا کہنا ہے کہ غیر قانونی بھارتی اقدامات کے بعد جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل ابتر ہے، اڑھائی سال سے جاری فوجی محاصرے کے باعث سینکڑوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔
شہید سید عارف حسین الحسینی پشاور میں مدرسہ ہذا کی انتظامیہ کی جانب سے صوبہ کے مختلف مدارس میں زیرتعلیم طلبہ کیلئے ’’شہید عارف الحسینی تربیتی و فکری‘‘ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں کہاکہ مظلومین کی حمایت ایک شرعی تقاضا ہے۔دنیا بھر کے مسلمان مظلومین کی حمایت میں یک زبان ہو کر ظالموں کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم امام علیععلیہ السلام فرماتے ہیں لَا یَنْۢبَغِیْ لِلْعَبْدِ اَنْ یَّثِقَ بِخَصْلَتَیْنِ: الْعَافِیَةِ وَ الْغِنٰى: بَیْنَا تَرَاهُ مُعَافًى اِذْ سَقِمَ، وَ […]
علامہ شبیر حسن میثمی نے کہاکہ یکساں قومی نصاب کے مسئلے پر اہل سنت علماء سے بھی کہہ چکا ہوں اور اب دوبارہ اہل سنت اور اہل تشیع علماء سے کہتا ہوں کہ یہ ہمیں بھڑانا چاہتے ہیں تاکہ ہم آپس میں لڑتے رہیں اور پھر حکومت کہے کہ بھائی آپ کی تو لڑائیاں ختم ہی نہیں ہوتی ہیں، آؤ ہم ایسا سلیبس بناتے ہیں جو سیکولر ہو۔ ہم یہ قبول نہیں کریں گے۔
35ترک طلباء اور طالبات کا گروپ جب مشہد مقدس پہنچا تو اس نےسب سے پہلے حرم امام رضا(ع) میں حاضری دی اورحرم مطہر رضوی میں واقع رضوی علوم اسلامی یونیورسٹی کا دورہ کیا اس اس موقع پر ترک طلبا اور طالبات نے یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر اور پروفیسر حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید محمد موسوی بایگی کی دینی عقاید اور تعلیمات پر مشتمل سفارشات بھی سنی گئی
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، مسئلہ کشمیر بھر پور عملی اقدامات سے حل ہوگا، جنگ کے سوا دیگر قابل عمل و قابل حل آپشنز پر غور کیا جائے، تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب بڑھنے کے ساتھ مظلوم عوام کی ڈھارس بندھائی جاسکے