صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























شہید جہاد کے والد "قدس" کی آزادی کو اپنا اولین ہدف سمجھتے تھے جنکا یہ مشہور جملہ "ہدف واضح دقیق اور معین ہے اور وہ اسرائیل کا جڑ سے خاتمہ ہے" زبان زدِ عام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر رضاکار کو پہلی ڈوز لگوانے کے بعد دو ہفتے تک ڈاکٹروں کی مکمل نگرانی میں رکھا جائے گا اور مکمل اطمینان کی صورت میں دوسری ڈوز انجیکٹ کی جائے گی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ یو پی پولس نے معاشی طور پر کمزور مسلمانوں کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا ہے اور مزید لوگوں کو پولس حراساں کررہی ہے جس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے نیز لکھنؤ ہائی کورٹ میں سماعت کے موقع پر سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائے گی کیونکہ حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہےکہ بالغ لڑکے لڑکی کو اپنی پسند کی شادی اور مذہب اختیار کرنے کا آئینی حق ہے اس کے باوجود لو جہادکے نام پر یوپی سرکار مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنا کر حراساں کررہی ہے۔
ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے کانوں میں یہ خبر روز پہنچتی ہے کہ فلاں مسلم لڑکی نے فلاں غیر مسلم لڑکے سے شادی کرلی۔ فلاں کالج میں پڑھنے والی لڑکی پیار میں اندھی ہوکر کورٹ میرج کرلی، فلاں بڑے باپ کی بیٹی نے عاشق کے ہمراہ گھر سے بھاگ کر شادی کرلی، فلاں مذہبی شخص کی لڑکی نے ایک بھنگی سے شادی کرلی۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ خبریں انتہائی دلدوز اور پریشان کرنے والی ہوتی ہیں
شہید قائد آغا ضیاالدین مرحوم ان گوہر نایاب میں سے تہے ۔جن پر محسن ملت علامہ صفدرحسین نجفی رح بہی فخر کیا کرتے تہے
حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیھا) کے یوم شہادت کے حوالے سے منعقد ہونے والے یہ تمثیلی پروگرام کا انعقاد الکلینی کمپلکس کے مرکزی ہال میں ہوا کہ جہاں الکفیل دینی مدارس برائے خواتین کی طالبات اور تدریسی عملے نے شرکت کی۔
حجت الاسلام محمد جواد حاج علی اکبری نے اپنے خطاب میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ استقامتی تحریکیں جناب فاطمہ زہرا کے قیام سے ہی متاثر ہوکر شروع ہوئی ہیں، کہا کہ جناب فاطمہ زہرا (س) کا یہ قیام پوری تاریخ اسلام کی تمام مزاحمتی اور استقامتی تحریکوں کی اساس ہے۔
شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی ۲۶ ویں برسی کی مناسبت سے شہید کی شخصیت، آئیڈیالوجی، ویژن اور حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک شعری مقابلہ بعنوان " میں فکر انقلاب ہوں، اب تک سفر میں ہوں منعقد کیا جارہا ہے۔
موثر اور عہد ساز انسانوں کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض انسانوں کی سیرت اور کردار کی اثر آفرینی مختصر لمحوں کے بعد معدوم ہوجاتی ہے اوربعض افراد کے کردار کی پختگی دوچار نسلوں تک اثر آفریں ہوتی ہے.لیکن کچھ ایسے کامل افراد بھی تاریخ میں دیکھنے کو ملتے ہیں.