صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























اپنے خطاب میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مسلسل پے در پے پاکستانی وفود کی اسرائیل یاترا حکومت کی نا اہلی اور حکومت کے اسرائیل سے خفیہ روابط کی نشاندہی کرتا ہے، پاکستانی وفد کی جانب سے اسرائیل کا دورہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی سے کھلی بغاوت ہے۔
امام حسن علیہ السلام دینِ اسلام کے درخشندہ ستارے ہیں، سیدنا حضرت حسن علیہ السلام کا اخلاق امام الانبیاﷺ کے حُسنِ اخلاق کا نمونہ ہے۔ سیمینار کے اختتام پر ملکی سلامتی اور ترقی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعا بھی کروائی گئی۔ سیمینارمیں مولانا مرید حسین، مولانا شبیر نقوی، علامہ قاری خالد محمود، زاہد بخاری، مولانا عبدالرحمٰن، شاہ زادہ احسن گیلانی بھی شریک ہوئے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حکومت سیلاب متاثرین کو بھکاری بنانے کی بجائے متاثرین کے لئے چھوٹے کارخانے لگا کر بے روزگاری اور افلاس کا خاتمہ کرے اور لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرے۔
علامہ ساجدنقوی نے کہا کہ رسول خدا نے اپنی احادیث میں حضرت امام حسن علیہ السلام کی شان و منزلت اور سخاوت و مرتبت کی نشاندہی فرمادی تھی ۔ جب حضرت امام حسن علیہ السلام کے دور میں فتنہ و فساد نے سراٹھایا اور مسلمان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے تو امام ؑ نے اپنے جد امجد کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مسلمانوں کو امن و محبت کا درس دیا اور صلح کا راستہ اپناکر ثابت کردیاکہ اہل بیت پیغمبر دین اسلام کی نگہبانی کا فریضہ ادا کرنا جانتے ہیں اور کسی صورت بھی اسلام کے حصے بخرے ہونا گوارہ نہیں کرتے۔
۔24 اکتوبر سے شروع ہونے والے یہ امتحانات میٹرک، ایف اے، بی اے، ایم اے اسلامیات،تجویدوقرات، پیش نمازی اور حفظ القرآن کے امیدواروں کے لئے ہیں۔
اگر کوئی قانون پارلیمنٹ سے قرآن و سنت کے خلاف بنتا ہے، تو فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کے مطابق اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے
فری میڈیکل کیمپ میں تقریباً 200 سے زائد مریضوں کے مفت چیک اپ کے ساتھ مفت دوائیاں بھی فراہم کی گئی۔
پہلے ہی ان ر وشن اصولوں سے روگردانی کی وجہ سے وطن عزیز کا بہت زیادہ نقصان ہوچکا لیکن اب یہ ملک مزید نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی ، عدل و انصاف اور گڈ گورننس کو قائم کرکے قائد اعظم کے پاکستان کو موجودہ گھمبیر اور سنگین مسائل و مشکلات سے نجات دلائی جاسکتی ہے، پورا ملک سیلاب سے متاثر ہے، آج پھر اسی جذبے کی ضرورت جو ایثار کا جذبہ قیام پاکستان کے وقت تھا۔
مہمان مقرر پروفیسر ڈاکٹر ریاض رضی نے کہا کہ دینی تعلیم میں جس قدر چاشنی ہے اُس کا عشر عشیر مروجہ علوم میں نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت و اخلاق پر بھی توجہ دینا ہوگی۔