غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
مرحوم آیت اللہ شبر فرماتے ہیں کہ توبہ حقیقت میں تین چیزوں پر مشتمل ہے علم، حالت، فعل
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے نہج البلاغہ کے ١٤٧ ویں خطبہ کی تفسیر میں آپ کی شہادت کے بعد امت اسلامی کے نقصانات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : '' وداعي لكم وداع امرىء مرصد '' (١٠)۔ '' للتّلاقي! غدا ترون أيّامي، و يكشف لكم عن سرائري، و تعرفونني بعد خلوّ مكاني و قيام غيري مقامي
جو شخص ماہ مبارک میں امام حسینؑ کی زیارت کرے اور اثنائے راہ میں مر جائے تو اس کاحساب وغیرہ نہیں ہو گا اور اس سے کہاجائے گا کہ بے خوف و خطر جنت میں داخل ہو جا
انہوں نے ابتدائی تعلیم کشمیر میں حاصل کی اور اس کے بعد علم دین سے فیضیاب ہونے کی غرض سے اپنے وطن سے ہندوستان کی جانب ہجرت کی
اہل سنت کے یہاں بعض موجود احادیث سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ) سے قریب ترین شخص کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے
پروردگار عالم اس آیت مجیدہ کے اندر اعمال صالح اور توبہ کی طرف جلدی سے حرکت کرنے (تیزی سے دوڑنے) کا حکم دے رہا ہے
دنیا کی زندگی کو تیزی سے زوال پزیر کھیتی کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے۔کہ بہار میں کھیتیاں کتنی خوبصورت اور سر سبز لگتی ہیں اور پھر وہ زرد اور خشک ہو جاتی ہیں۔ دینا بھی ایسے ہی ہے کبھی وہ شاداب ہےاور کبھی چند روزہ ہے اور ختم ہو جاتی ہے۔
مخالف حکومت کا پروپیگنڈا بھی کیا چیز ہے؟ اس نے حکایتیں تصنیف کی ہیں کہ حسن مجتبیٰ علیہ السلام تو طبعاً صلح پسند تھے۔ مگر ان کی بے جگری کے ساتھ ان نبردآزمائیوں میں عملی شرکت ان تصورات کو غلط ثابت کر دیتی ہے۔
آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری کی تقاریر سے اقتباس