صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
حرم اور مسجد نبوی کیساتھ تمام مساجد اور مذہبی جگہوں کو مکمل کھول دیا جائے گا۔ انسداد کورونا کیلئے اپنائے گئے تمام احتتاطی تدابیر کی شرائط بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ مساجد میں سماجی فاصلہ اور زائرین کیلئے کورونا پی سی آر ٹیسٹ کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔
ادھر مقبوضہ کشمیر کے سرحدی ضلع کرگل میں بھی پشاور سانحہ کی مذمت کی اور بھارتی حکومت اور عالمی برادری سے درخواست کی کہ وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالے۔ اس طرح کی وحشیانہ حرکتیں انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کونسل کرگل فیروز احمد خان نے کہا کہ ایل اے ایچ ڈی سی کرگل پشاور میں نمازیوں پر ہونے والے وحشیانہ حملے کی مذمت کرنے میں عالمی برادری کے ساتھ شامل ہے۔
شب چار شعبان المعظم جو حضرت ابالفضل العباس(ع) کی شب ولادت ہے اس مناسبت سے شام سات بجے سے خصوصی جشن کا انعقاد کیا جائے گا جس میں حجت الاسلام والمسلمین روح اللہ موید حضرت اباالفضل العباس(ع) کی شان میں اشعار پڑھیں گے اس کے علاوہ ملک کے مشہور منقبت خوان سید مجید بنی فاطمہ منقبت خوانی کریں گے،جشن کے اختتام پر آیت اللہ کازرونی محفل جشن کو خطاب کریں گے ۔
ایرانی ائمہ جمعہ کی سیاست گزار کمیٹی کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین حاج علی اکبری نے پشاور میں رونما ہونے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور پاکستانی حساس اداروں کی طرف سے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات اور تدابیر اپنانے کی تاکید کی۔
قصر شیرین کےسنی امام جمعہ اور قصر شیرین، سر پل ذہاب اور ریجاب کی افتاء کمیٹی کے سربراہ نے پشاور میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے، پاکستان کی حکومت سے درخواست کی کہ قسی القلب اور افراطی دہشت گردوں کو اجازت نہ دے کہ مسلمان لوگوں کا قتل عام کریں۔
حضرت آیۃ اللہ العظمی علوی گرگانی نے کہا کہ پشاور پاکستان کی جامع مسجد کوچۂ رسالدار میں خوفناک دھماکہ بڑی تعداد میں اہل تشیع اور نمازیوں کی شہادت کا سبب بنا، یہ جرم اسلام دشمن عناصر کا اسلام سے خوفزدہ ہونے کی دلیل اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو فروغ دینے کا ایک حربہ ہے۔
وفاق ٹائمز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیۃ اللہ نوری ہمدانی نے پشاور میں نماز جمعہ کے دوران کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
حکومتی نااہلی کی وجہ سے مملکت خداداد پاکستان میں صہیونی دھشت گرد و اسلام دشمن عناصر ایک طویل عرصہ سے مسلمانوں کا باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ قتل عام کر رہے ہیں۔ اگر حکومت نے شیعہ نسل کشی کی اس مذموم سازش کا فوری سدباب نہ کیا تو ملکی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اس المناک سانحے میں ملوث افراد پاکستان میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد و وحدت کو پارہ پارہ کر کے مذہبی فتنہ ایجاد کرنا چاہتے ہیں