صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ایران وزیر خارجہ، ایران کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا بھرپور جواب دیں گی، خلیج فارس کی تاریخ بیرونی جارح قوتوں کے عبرتناک انجام کی متعدد داستانوں سے بھری پڑی ہے،
ہر وہ شخص جومذہبی علوم سے واقف ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ تمام علوم دینی کی برگشت اور ان کا جو ہر تین چیزیں ہیں ۔(۱) عقائد (۲) اعمال (۳) اخلاقیات کوئی شخص کما حقہ دیندار نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان تین امورکو بقدر ضرورت نہ سمجھےاور ان کا علم حاصل کرنے کے بعد ان پر عمل نہ کرے۔
اگرچہ تبلیغ دین کے ذرائع میں تألیف و تصنیف بھی ایک عمدہ ذریعہ ہے لیکن اس مادی دور میں جب لوگ دین کی طرف خاص رجحان نہیں رکھتے وہ مذہبی کتب کے پڑھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے اور پھر سب لوگ پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے ۔ لہٰذا جتنی افادیت مجالس و محافل سے ہوسکتی ہے وہ کتب و رسائل سے ممکن نہیں۔
پیش امام علامہ فدا حسین مظاہری نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے میٹنگ کا ایجنڈا پیش کیا اور کہا کہ کرم کے حالات آئے روز خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں، جسکے سدباب کیلئے ہر سطح پر تیاری کی ضرورت ہے، جبکہ تیاری کا راز ہمارے باہمی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان شعبہ قم کے مدیر حجۃ الاسلام علی اصغر سیفی نے کہاکہ وفاق المدارس الشیعہ کے بانی صدر محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی کی علوم اسلامی کے فروغ اور قومی معاملات میں خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
میری یہ خواہش تھی کہ امام جب پیرس میں پہنچ گئے تھے ایک وفد پاکستانی علماء کی طرف سے ان کی طرف بھیجیں اور ان کو جاکر کہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ایک آدمی بھی تیار نہیں ہوا
ان کا کہنا تھا کہ فرعون مصر سے کس طرح بنی اسرائیل کو نجات ملی، رہتی دنیا تک کے لئے بہت بڑی مثال ہے جبکہ حضور اکرم نے اس دور کی سب سے بڑی غلامی کے دور خاتمہ کیا۔ آج کی مہذب دنیا سمیت کسی بھی دین میں غلامی کا کوئی اختیار نہیں، امیر المومنین علی ابن ابی طالبؑ کا فرمان ہے کہ ”تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنایا جبکہ خداوند متعال نے اسے آزاد پیدا کیا۔“
میں سمجھتا ہوں کہ خواہش کرنا کسی اچھے منصب کی کوئی بری بات نہیں ہے البتہ اگر کوئی کسی منصب کا اہل نہیں ہے اس کا اپنے اندر استعداد پیدا کئے بغیر اس کے حصول کے لئے غلط طریقے انتخاب کرنا یہ اچھا نہیں ہے ۔
ایرانی دینی مدارس کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی کی طرف سے حجت الاسلام و المسلمین محمد رضا برتہ کو مرکزِ مدیریت حوزہ علمیہ کے نئے ترجمان کے طور پر منصوب کیا گیا ہے۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے اس ملاقات میں ایران اور پاکستان کے برادرانہ، تاریخي ، دینی اور ثقافتی مشترکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنی ظرفیتوں سے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے سلسلے میں بھر پور استفادہ کرنا چاہیے۔