صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
باب الحوائج حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر 80 سے زائد ایسے پاکستانی زائرین حرم امام رضا(ع) کی کرامت رضوی فاؤنڈیشن کے تعاون سے امام رضا(ع) کے روضہ منورہ کی زیارت سے مشرف ہوئے جو ابھی تک زیارت نہيں کرسکے تھے
ملاقات میں حکمرانوں کی جانب سے جی بی کو عبوری صوبہ بنائے جانے کے فیصلے کے تمام جزیات کا جائزہ لیا گیا اور اس ضمن میں آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے تجاویز بھی مرتب کی گئیں۔
کاظم“ یعنی غصہ پی جانے والا،آپ کا معروف لقب ہے۔غلام سے آپ کے لباس پر سالن گر گیا تو ناصرف اُسے غلطی کا احساس تک نہ دلایا اور معاف کردیا بلکہ جب اُس نے چند آیات تلاوت کیں تو اسے آزاد کر دیاجو اُس زمانے میں بہت بڑا احسان تھا۔
امتحانات 26 مارچ سے شروع ہوں گے، قرآن، تفسیر، حدیث، تاریخ، اخلاق، فقہ، عقائد، اصول الفقہ، تجوید و قرات، حفظ قرآن اور پیش نمازی کے امتحانات لئے جائیں گے
مدرسہ الامام المنتظر قم میں شہادت امام موسی کاظم علیہ السلام اور شہید علامہ حافظ ثقلین کی 10ویں برسی کی مناسبت سے ایک مجلس عزاء کا انعقاد ہوا جس سے حجۃ الاسلام مظہر حسینی نے خطاب کیا۔
آسمان امامت و ولایت کے ساتویں درخشاں ستارے، فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے یوم شہادت کی مناسبت سے عزاداری کے مقصد سے عراق کے مختلف علاقوں خاص طور سے جنوبی اور وسطی صوبوں سے لاکھوں کی تعداد میں زائرین, بغداد کے شمال میں واقع شہرِ کاظمین پہنچ گئے ہیں۔
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضۂ مبارک کے شعبۂ تعلقات عامہ اور تبلیغ کے سربراہ نے کہاکہ صوبۂ گلستان میں حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے خادموں نے موکب کے قیام کے لئے مؤمنین کے توسط سے جمع شدہ رقوم کو غیر ارادی جرائم کے قیدیوں کی رہائی کے لئے مختص کیا اور امام کاظم علیہ السلام کے یوم شہادت کے موقع پر صوبۂ گلستان کے 20 قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔
ملک بھر میں وفاق المدارس کے تحت سالانہ امتحانات کا آغاز ہو گیا۔ ملک بھر کے 2500 سے زائد امتحانی مراکز میں ہفتہ 26 فروری سے تین مارچ تک بیک وقت امتحانات ہوں گے۔
امام موسی کاظم ؑ نے اپنے آباءو اجداد کی سیرت و کردار پر عمل پیرا ہوکر خالص اسلام محمدی کی تعبیر و تشریح، قرآن مجید کی تفسیر اور اسلامی معارف کی روشن تصویر کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے میں امامت اور سیاسی حاکمیت کے فلسفے کو واضح کیا