صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
ایل آر ایچ کے ترجمان کے مطابق کوچہ رسالدار دھماکے کے مزید 5 زخمی دم توڑ گئے، اسپتال میں لائے گئے متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
اپنے ایک بیان میں بزرگ عالم دین کا کہنا تھا کہ یہ وہی دہشتگرد ہیں، جنہوں نے پہلے بھی بیگناہ شیعوں کے خون کو بے دردی سے بہایا ہے۔ آج بھی انہی دہشتگردوں نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب میں وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں اور نمازیوں کو کس بات کی سزا دی جاتی ہے، پشاور میں ایک ماہ پہلے پادری کو نشانہ بنایا گیا، جو امن کے سفیر تھے۔ پشاور مسجد میں جب حملہ ہوا تو شہید عالم دین خطبہ دے رہے تھے کہ انسان کے علاوہ چرند پرند پر بھی رحم کیا جائے۔
حکومتی نااہلی کی وجہ سے مملکت خداداد پاکستان میں صہیونی دھشت گرد و اسلام دشمن عناصر ایک طویل عرصہ سے مسلمانوں کا باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ قتل عام کر رہے ہیں۔ اگر حکومت نے شیعہ نسل کشی کی اس مذموم سازش کا فوری سدباب نہ کیا تو ملکی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
پشاور میں شیعہ جامعہ مسجد کوچہ رسالدار قصہ خوانی دھماکہ کے شہید خطیب مسجد مولانا ارشاد حسین خلیلی کی نماز جنازہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر کی امامت میں ادا کی گئی ۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماؤں کی جانب سے پشاور دھماکے کیخلاف کراچی کے عزاخانہ زہرا (ع) کے باہر ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس سے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علامہ ناظر عباس تقوی نے خطاب کیا
اس المناک سانحے میں ملوث افراد پاکستان میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد و وحدت کو پارہ پارہ کر کے مذہبی فتنہ ایجاد کرنا چاہتے ہیں
ایرانی دینی مدارس کے سربراہ آیت اللہ اعرافی نے مسجد امامیہ پشاور میں نمازیوں پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہےکہ پاکستانی حکومت مظلوم عوام کی حمایت کرتے ہوئے دھشت گردوں کی نابودی کے لئے ٹھوس اقدام اٹھائے تاکہ مظلوم عوام کا تحفظ یقینی ہو اور مسلمانوں کے دینی اجتماعات ان وحشی دھشت گردوں کے ظلم و بربریت سے محفوظ رہے۔
سابق وفاقی وزیر تعلیم سید منیر حسین گیلانی نے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی سے جامعةالمنتظر ملاقات کی اوراپیل کی کہ وہ ملی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ توحید ، ختم نبوت اور ولایت علی علیہ السلام پر ایمان رکھنے والوں کی قومی پالیسی ایک ہو۔