زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























زائرینِ حسینی، طاقت اور استحکام، خون کا بدلہ دشمنوں سے، خوفناک انجام ثابت، کتائب سید الشہداء،
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حرم حضرت علی علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔
28 مئی کی صبح کو آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی نے آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی سے ملاقات کی جس میں انہوں نے آیت اللہ مکارم کی صحتیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سلامتی اور طول عمر کے لئے دعا کی۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے تین روزہ دورے کے دوران آج عراق میں مقیم نامور عالم دین آیت اللہ العظمی حافظ بشیر نجفی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی.
کویت کی پارلیمنٹ (مجلس امت) نے اپنے گزشتہ روز کے اجلاس میں اسرائیل سے مکمل بائیکاٹ اور اس سے ہر قسم کے تعلقات کی ممنوعیت کے متعلق ایک بل پاس کیا ہے۔
صدر انجمن جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل لداخ نے اس موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے زندگی بھر حوزہ علمیہ اثنا عشریہ میں جانفشانی کے ساتھ خدمات انجام دی،کرگلی عواماور بالخصوص جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل انکی قربانیوں اور دین مبین اسلام کی ترویج کیلئے کی گئی ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
حجۃ الاسلام غضنفر حیدری نے علم اور عالم کی فضلیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالم کی ہمنشینی ہزار عابد کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔ امام جعفر صادق ؑ سے پوچھا گیا کہ ایک طرف کسی شہید کی نماز جنازہ ہورہی ہے اور دوسری جانب ایک عالم دین منبر پر بیٹھ کر وعظ کررہے ہیں ان دونوں میں سے کس میں شرکت کرنا بہتر ہے؟ تو امامؑ نے فرمایا عالم کی صحبت میں رہنا 70 شہدائے بدر کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے سے بہتر ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی عراقی ہم منصب سے ملاقات ہو ئی ، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات باہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال کیا گیا اور کثیر الجہتی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کےپرگفتگو ہوئی۔
گزشتہ روز، جب شیخ زکزاکی کے وکیل اپنے مؤکل کے مقدمے میں شرکت کے لئے عدالت گئے تو انہیں بتایا گیا کہ اس مقدمے کی سماعت نہیں ہوگی اور شیخ زکزاکی کے وکلاء کو اگلی سماعت کے لئے وقت کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا۔
سنہ 1340 ہجری (1921 عیسوی) میں شیخ عبدالکریم حائری کے توسط سے حوزہ علمیہ قم کی تاسیس سے قبل میرزا محمد فیض قمی سنہ 1333 ہجری میں سامرا سے قم واپس آئے اور 1336 سے 1340 ھ تک مدرسہ دارالشفاء اور مدرسہ فیضیہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا جو علمی سرگرمیوں کے لئے استعمال کی قابلیت کھو چکے تھے۔ انہوں نے ان مدارس میں طلبہ کو بسایا۔