صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے ہر چیز بنائی اور اسے انسان کیلئے مسخر کیا اور اس کے تابع فرمان بنایا اور انسان کو اپنے دینی احکام کے مطابق چلنے کا حکم دیا
علامہ شبیر حسن میثمی کی قیادت میںوفد نے وزیرداخلہ پنجاب عطاءاللہ تارڑ سے لاہور میں ملاقات کی ۔ملاقات میں شیعہ علما ءکونسل کے رہنما قاسم علی قاسمی، سید حسن شاہ ترمذی، اور صغیر عباس ورک بھی شامل تھے۔ ملاقات میں مجالس عزا ، آئندہ ماہ محرم الحرام کے معاملات اور گزشتہ سال ناجائز طور پر درج ہونے والی ایف آئی آرز کے معاملات زیر بحث آئے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کو استعماری قوتوں سے آزادی کے لئے طویل جدوجہد کی ضرورت ہے،یہ دنوں اور مہینوں کا کام نہیں جہد مسلسل کی ضرورت ہے،ہمارا پایہ تخت اس وقت اسلام باد میں نہیں واشنگٹن میں ہے ہم پر استعماری فیصلے مسلط ہو رہے ہیں،اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے یہ مغربی غلام سرگرم ہے،ہم اس عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کرینگے
انہوں نے کہا امام خمینی وہ نڈر رہنما و رہبر کبیر انقلاب ہےجنہوں نے خواتین کو حضرت سیدہ زینب (س) کی خوبصورت زندگی کی تجزیانہ شرح پیش کر کے عورتوں کو ان کی عظمت رفتہ اور حقیقت کی پہچان کرا دی آج عالم اسلام کے حالات انتہائی خراب ہیں ، سامراجی ذرائع ابلاغ، سچ کو جھوٹ ، جھوٹ کو سچ قرار دے رہے ہیں
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام خمینی اسلام اور مسلمین کی سربلندی کے لئے عالمی کفر اور اس کے گماشتوں سے نبردآزما رہے اور انکا ماننا تھا عالم اسلام کی آزادی و نجات امت مسلمہ کے اتحاد میں مضمر ہے لہٰذا وحدت اسلامی کے لئے ان کے حیات آفرین پیغامات اپنے مکمل اثرات کے ساتھ جسد اسلامی میں جذب ہوچکے ہیں۔
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ملتان ڈویژن کے زیراہتمام رہبر انقلاب اسلامی امام خمینی رضوان علیہ کی 33ویں برسی کی مناسبت سے جامع مسجد جعفریہ شیعہ میانی ملتان میں آج تقریب منعقد ہوگی،
عالمی استعمار آج بھی مرجیعت سے سخت خوفزدہ ہے۔اسے مراجع عظام کی موجودگی میں اپنی دال گلتی نظر نہیں آتی
شیعہ علماءنے سابقہ حکومت کے تعلیمی نصاب میں متنازع موادپر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا
حضرت بی بی معصومہ کا امام رضا (ع) سے رابطہ اور تعلق صرف بھائی اور بہن کی محبت اور خونی رشتہ کا نہیں تھا بلکہ ایک پاکیزہ کردار اور طیب و طاہر انسان ، الہی نمائندہ اور امام کے عنوان سے تھا