غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
2019ء میں بلوچستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے میں چودہ اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ سیستان بلوچستان میں ایرانی انقلابی گارڈز پر ایک ہی حملے میں ستائیس جوانوں کی لاشیں گرائی گئیں۔
امام صادق علیہ السلام میں بیان ہوئے کسی اور امام کو اسقدر موقع نہ مل سکا کیونکہ پابندیاں اسقدر زیادہ تھیں کہ لوگوں کے ساتھ رابطہ کرنا ہی ممکن نہ تھا
کوئی بھی باشعور انسان کتاب کی اہمیت اور مطالعے کی افادیت کا انکار نہیں کرسکتا۔ انسان کا شعوری ارتقاء اور فکری ترقی میں کتاب اور مطالعے کا شروع سے ہی اہم کردار رہا ہے۔
خداوند متعال نے انسان کو فطرتاً علم دوست خلق کیا ہے اور یہ انسان ہمیشہ سے علم کی طرف میل و رغبت رکھتا آ رہا ہے علماء میں رفت و آمد کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا رہا ہے اور یہ رجحان نوع بشر کو دیگر تمام موجودات سے ممتاز کرتا ہے اور علم ہی کی بنیاد پر آدم کو ملائکہ پر فضیلت دی گئی۔
میزان سے یہاں مراد انصاف ہے یعنی اللہ نے لوگوں کو انصاف کا حکم دیا اسی طرح بعض نے اس سے مراد ترازو لیا ہے اور ترازو اتارنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ترازو کی جانب لوگوں کی راہنمائی کی کہ اس کے ذریعے لوگوں کو تول کر پورا پورا حق ملے۔
قصاص تو مولوی نگار عالم کے ورثاء بھی نہیں لے پائیں گے۔ وجہ سوچنے اور سمجھنے والوں سے مخفی نہیں۔ مولوی نگار عالم کی بات کچھ دیر بعد پہلے پارہ چنار کی بات ہو جائے۔ جہاں آٹھ بے گناہ افراد قتل ہوگئے۔ ریاستی اداروں نے ورثاء کی ایک نہیں مانی۔ قتل کی وجہ زمین کا تنازعہ قرار دے دیا۔
سورہ حدید کی اس آیت مجیدہ میں پروردگار عالم نے لوگوں کے اس گروہ سے خطاب کیا ہے کہ جو خود بھی کنجوس ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کا سبق پڑھاتے ہیں۔
کسی قوم کی ابتدائی تاریخ کا اندازہ اس کے تاریخی مقامات و آثار قدیمہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ انسانی معاشرے میں کسی قوم کے قدیمی ہونے یا ان کے عقائد کا اندازہ اس کے تاریخی مقامات سے اخذ کرسکتے ہیں۔ دنیا میں جتنی قومیں پائی جاتی ہیں، ان کی مذہبی رسومات کو دیکھ کر ان کی حقیقت کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
یہ مقدس بارگاہ اور حرمین کے دیگر مزارات جو عوام الناس اور سفرنامہ نویسوں کی توجہ کے محور تھے؛ سنہ ۱۲۱۸-۱۲۲۱ھ کو وہابیوں کے پہلے حملے میں گرا دئیے گئے؛ وہابی فورسز نے ڈیڑھ برس کے محاصرے اور مدینہ کو قحط سے دوچار کرنے کے بعد شہر پر حملہ کیا اور نبی کریمؐ کے مزار کے سوا دیگر مزارات کو منہدم کر دیا۔