صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
ڈاکٹر جلال الدین رحمت وہ شخصیت ہیں جو اپنے عزیز و اقارب میں سے کسی کا انحراف دیکھتے تھے یا کسی کا رویہ ہمارے اسلامی نظام کی پالیسی کے مطابق نہیں ہے اور اسے انتباہ کیا جاتا ہے ، تو فورا قبول کرتے تھے اور اظہار کرتے تھے ۔ میں سیدنا القائد (امام خامنہ ای ، ) کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔
مرحوم آیت اللہ محمد تقی بافقی رحمۃ اللہ امام زمان (عج) سے بہت گہرا تعلق اور رابطہ رکھتے تھے ان کا اس حوالے سے ایمان کامل تھا جب بھی ضرورت محسوس ہوتی تو فورا مسجد جمکران میں امام زمان (عج) سے مشرف ہوتے اور اپنی حوائج شرعیہ پیش کرتے تھے ۔
قرآن اور نہج البلاغہ کے بعد صحیفہ سجادیہ حقائق اور معارف الہی کا سب سے بڑا سر چشمہ اور منبع ہے ۔ اس کو" اخت القرآن "قرآن کی بہن ۔ "انجیل اہلبیت " "زبور آل محمدﷺ " اور صحیفہ کاملہ بھی کہا گیا ہے
فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کی مدد و نصرت کیلئے عرب و عجم سے صدائیں بلند ہونی چاہیے۔ اگر کشمیر میں ہونے والے ظلم سے ہم بے تاب نہیں ہوتے تو ہمیں اپنے ایمان اور مسلمان ہونے پر شک کرنا چاہیے۔
سمجھ نہیں آتی حکومت کیا چاہتی ہے اور اسکا ویزن کیا ہے ، اگر کوئی ہے تو ۔ ایک طرف یکساں تعلیمی نصاب کی بات ہوتی ہے دوسری طرف نئے وفاقی بورڈ تشکیل دیکر نئے نصابوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔
آپ علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں ایک معروف حدیث ہے جس کی عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ سامراء میں اچھی خاصی تعداد میں شیعہ اس طرح سے اکٹھا ہو گئے تھے کہ دربار خلافت انہیں پہچان نہیں پاتا تھا،
امیر المومنین علیہ السلام اس کلام میں دو نکات کو بیان فرماتے ہیں ایک صدقہ کی تاثیر اور دوسرا قیامت کے دن انسان کے دنیوی اعمال کا حضور کہ جسے ’’تجسم اعمال‘‘ یعنی خود اعمال کا مجسم ہو کر حاضر ہونا۔
آپ دیکھئے کہ اچانک قم میں اشعریین نظر آنے لگے۔ وہ کیوں آئے؟ اشعریین تو عرب ہیں۔ وہ آئے قم۔ قم میں حدیث و اسلامی معارف کا بازار گرم ہو گيا۔ احمد بن اسحاق اور دوسرے افراد نے قم کو اپنا مرکز بنایا۔ ری کے علاقے میں وہ ماحول پیدا ہوا کہ شیخ کلینی جیسی ہستیاں وہاں سے نکلیں۔
امام علی نقی علیہ السلام تقریبا ۲۹/ سال مدینہ منورہ میں قیام پذیررہے آپ نے اس مدت عمرمیں کئی بادشاہوں کازمانہ دیکھا تقریبا ہرایک نے آپ کی طرف رخ کرنے سے احترازکیا یہی وجہ ہے کہ آپ امورامامت کوانجام دینے میں کامیاب رہے یعنی تبلیغ دین اورتحفظ بنائے مذہب میں فائزالمرام رہے آپ چونکہ اپنے آباؤاجدادکی طرح علم باطن اورعلم غیب بھی رکھتے تھے