دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نے ہفتہ وحدت 12 تا 17 ربیع الاول کے آغاز پر اپنے خصوصی پیغام میں مسلمانان عالم سمیت مسلمانان پاکستان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پرفتن اور سنگین حالات میں ہمیں پیغمبر گرامی کی سیرت سے درس لیتے ہوئے باہمی اختلافات اور فروعی و جزوی مسائل کے حل کے لئے امن محبت رواداری تحمل اور برداشت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
پینتیسویں وحدت اسلامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ وحدت اور رواداری کی فکر عالم اسلام کی ایک استڑیٹجک ضرورت ہے جس پر تمام علمائے کرام اور مفکرین تاکید کرتے ہیں۔
بنان کی استقامتی تنظیم حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے پیر کی شب ایک اہم خطاب کیا جس میں انہوں نے بیروت بندرگاہ میں پچھلے سال ہوئے بھیانک دھماکے کی تحقیقات کو لے کر گذشتہ جمعرات کو بیروت میں پر امن مظاہرے پر ہوئی اندھادھند فائرنگ کے واقعہ سمیت مختلف اہم مسائل پر روشنی ڈالی۔
مہتم اعلیٰ جامعۃ المنتظر لاہور علامہ محمد افضل حیدری نے کہاکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی حیات مبارکہ ہمارے لئے نمونہ عمل ہے، فقہا میں اجتہادی اختلافات ہیں، اسلام کے بنیادی اصولوں میں نہیں، جس کی وجہ قرآن و حدیث کو سمجھنے اور ان کی تعبیر میں اختلاف ہے لیکن اس کی بنیاد پر لڑائی جھگڑے کرنے کی بجائے ہمیں اتفاق و اتحاد کا عملی مظاہر ہ کرنا چاہیے۔
شیعہ علما کونسل شمالی پنجاب کے صدرعلامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ ہفتہ وحدت کی مناسبت سے بانی انقلاب اسلامی حضرت مام خمینی اور قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے حکم کے مطابق عید میلادالنبی کے جلوس نکالیں گے
انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ذمہ داروں سے درخواست کرتا ہوں افغانستان کے عوام کی پاسداری کرتے ہوئے اس ظلم اور بربریت کا خاتمہ کریں تاکہ افغانستانی عوام تمام مذاہب کی اتفاق نظر سے ایک ایسی حکومت تشکیل دیں جس میں عدالت، تحفظ، اور آزادی کا بول بالا ہو ۔
آیت اللہ العظمی حافظ بشیر نجفی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں قندھار میں شیعہ نمازیوں کے خلاف ہونے والا خودکش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بین عالمی برادری اور بالخصوص اسلامی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں شیعوں کے امن اور سکون کےلئے عملی طور پر اپنی انسانی ذمہ داری کو ادا کریں.
افغانستان میں جاری شیعوں کی قتل کے خلاف آج صبح ایران کے معروف دینی درسگاہ مدرسہ فیضیہ میں علماء اور طلاب کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
علامہ شبیر میثمی نے کہا کہ آیا ہم امامت کو قبول کرتے ہیں؟ جی ہاں، ہم امامت کو قبول کرتے ہیں۔ آیا ہم اماموں کو مانتے ہیں؟ جی ہاں، ہم اماموں کو مانتے ہیں۔ لیکن ہماری زندگی اماموں کو ماننے والوں کی زندگی نظر نہیں آتیں۔ سخت ہے بات میری، لیکن میں اس مرحلے سے گزروں گا۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اگر ہم واقعاً اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والے ہیں، ماننے والے ہیں تو ہماری زندگی بھی اہلبیت علیہم السلام کے مطابق ہونا چاہئے۔