دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
یہ نیا ترانہ محمد ابوذر روحی اور ان کے ہمراہ دیگر سرود گروہوں کی آواز میں تقریباً دس ہزار بچوں اور نوجوانون کے ہمراہ مسجد مقدس جمکران میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کانفرنس سے ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کے فرزند ڈاکٹر دانش نقوی، حجت الاسلام مولانا ڈاکٹر میثم ہمدانی اور ڈاکٹر راشد عباس نقوی نے خطاب کیا۔
عالم بشریت کو یہ جان لینا چاہیئے کہ ان کا نجات دہندہ رسول اسلام (ص) کے فرزندوں میں سے ایک فرزند، حضرت مہدی عجل الله تعالیٰ فرجه الشریف ہیں، مزید کہا کہ دنیا والوں کو معلوم ہونا چاہیئے
انہوں نے کہاکہ خدا سے عشق کریں اور جب یہ عشق بڑھ جائے تو دعائیں مانگنا بھی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ انسان ابتداء میں دعا سے شروع کرتا ہے لیکن جب عشق بڑھ جائے تو پھر بندہ خدا کی رضا میں خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھ جاتا ہے ہم جو کچھ بھی مانگیں وہ محدود ہے تو بندہ خدا پر چھوڑ دیتا ہے تو خدا بھی اسے لا محدود عطا کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم آئمہ علیہم السلام تو نہیں بن سکتے لیکن ان کی سیرت پر تو چل سکتے ہیں ہمیں غربی نظام خانوادہ کے بجائے قرآنی خانوادہ کو بیان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے معاشرتی مسائل حل ہوں۔
ترجمان حکمرانوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک توقف کے بعد دہشت گردی پھر سراٹھا رہی ہے جس کی تازہ ترین مثالیں سانحہ امامیہ مسجد پشاور، سانحہ ڈی آئی خان اور دیگر سانحات ہیںجس کی بنیادی وجوہات میں دہشت گردو ںکی نرسریوں اورنیٹ ورکس کو ختم نہ کرنا ہے ۔
اللہ ثاقب اکبر کا سفر آخرت آسان ترین بنائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
امام حسین علیہ السلام کے افکار اور سیرت مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے
صدر وفاق المدارس الشیعہ کا خطاب میں کہنا تھا کہ روح اور جسم کیلئے مفید ہر چیز کو رسول اللہ نے واجب یا مستحب قرار دیا ہے، جشن عید میلادالنبی کیساتھ دیگر معصومین کی ولادت کے دن بھی جوش و خروش سے منانے چائیں، امام حسین کی عصمت و طہارت پر قرآن مجید شاہد ہے۔