غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























مَنِ اسْتَحْسَنَ قَبيحاً كانَ شَريكاً فيهِ.
مَنِ اسْتَغْنى بِاللّهِ إفْتَقَرَ النّاسُ إلَيْهِ، وَمَنِ اتَّقَى اللّهَ أحَبَّهُ النّاسُ وَ إنْ كَرِهُوا.
اللہ تعالیٰ نے ہماری اطاعت کو ملت کے نظام اور ہماری امامت کو تفرقہ سے امان کا سبب قرار دیا ہے
بادشاہ لوگوں پر حاکم ہوتے ہیں اور علم ان پر حکومت کرتا ہے تمھارے صاحب علم ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ تم اللہ سے ڈرو
لَو يَعلَمُ المُصَلِّي ما يَغشاهُ مِن جَلالِ اللّهِ ما سَرَّهُ أن يَرفَعَ رَأسَهُ مِن سُجودِهِ .
سب سے بڑی عزت علم ہے اس لئے کہ اس کے ذریعہ روز قیامت اور امور حیات کی معرفت حاصل ہوتی ہے