صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ مصور پاکستان نے امت مسلمہ اور بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کی جس جانب رہنمائی کرائی اور امت کو بیدار کرنے کی کوشش کی اس پر عمل پیراہونے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبہ طویل عرصے سے زیر التوا ہے، پاکستان توانائی کے بحران سے گذر رہا ہے، اسے بھی حل ہونا چاہیے۔ اسلا می جمہوریہ ایران کے صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی کا دورہ پاکستان خیر سگالی کا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان اور ایران مضبوط ہو جائیں تو امت مسلمہ کا توانا اورمضبوط بازوہوں گے۔
اقبال نے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لئے نسلی و فرقہ وارانہ تفریق کو بالائے طاق رکھ کر باہم متحد ہونے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ اسی لئے انقلاب اسلامی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خمینی الوجود و خامنہ ائ البقاء ہے، یعنی انقلاب اسلامی کے بانی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ہیں تو اس کے محافظ رہبر سید علی خامنہ ائ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان مقدس ہستیوں کے مزارات کے انہدام پر مسلمان افسردہ اور پریشان ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ جنت البقیع اور جنت المعلیٰ میں مقدس ہستیوں کے مزارات کو فوری تعمیر کیا جائے جس کیلئے مسلم حکمران اپنی کوششوں کو تیز سے تیز کریں
ان کا کہنا تھا کہ ہمسائیہ ممالک پر بین الاقوامی قوانین و اقوام متحدہ کی چارٹرڈ کی کونسی خلاف ورزی ہے جو نہیں کی گئی اور حملے کئے گئے اس پر عالمی استعمار نہ صرف خاموش تماشائی بلکہ دراصل اس ظلم میں شریک کار اور پشتی بان کے طور پر شامل ہے
وزیرِ اعظم نے وفاقی کابینہ اور متعلقہ حکام کی سعودی وفد کے کامیاب دورے کیلئے کاوشوں کی پزیرائی کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وفد پاکستانی وزراء اور حکام کی تیاری سے متاثر ہوا اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود نے اس کا برملا اظہار کیا، سعودی وفد کے دورے کے نتیجے میں پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔
علامہ صادق جعفری نے کہا کہ دین کے نام پر نبی زادی کا روضہ زمین بوس کرنے والوں کا سماجی اعتبار سے عمل و کردار تبدیل ہوچکا ہے، جنت البقیع کی ازسر نو تعمیر پر سعودی حکومت کی طرف سے انکار کا کوئی اخلاقی جواز اب باقی نہیں بچا،
انہوں نے کہا کہ آل سعود نے شعائر اللہ کی توہین کرتے ہوئے سرزمین وحی پر فحاشی و عریانی کو فروغ دیا۔ حجاب اور شعائر دین کو پامال کیا۔ جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی غلامی اختیار کرتے ہوئے یمنی مسلمانوں پر بمباری کی۔ اور فلسطین و قبلہ اول مسجد اقصیٰ سے خیانت کی۔