صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تمام مکاتب فکر کے علماء نے سوئیڈن میں قرآن مجید کی بیحرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ بزرگ عالم دین علامہ سید افتخار حسین نقوی اور ایس یو سی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ بھی موجود تھے۔
کانفرنس سے علامہ شبیر حسن میثمی، علامہ رضی جعفر نقوی، علامہ اسد اقبال زیدی، محمد حسین محنتی و دیگر کا کہنا تھا توہین قرآن کا واقعہ دہشت گردی ہے، مذہبی مقدسات کی توہین ناقابل برداشت ہے، آئے روز توہین آمیز واقعات سے امت مسلمہ کے دینی اور روحانی جزبات کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے۔
مجمع جہانی اہل بیت علیہم السّلام کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین رمضانی نے پاکستان کی سنی عظیم دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ کراچی کا دورہ کیا اور اس مدرسے کے اساتذہ سے ملاقات اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
بزرگ عالم دین آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی سے اہم ملاقات اور مختلف اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی، بزرگ عالم دین علامہ سید افتخار حسین نقوی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ بھی موجود تھے۔
اپنے پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ 6 جولائی کا دن یوم تجدید ِعہد ہے کہ عوام کے ساتھ معاشرے کے سنجیدہ طبقات ایک بار پھر نئے حوصلے اور نئے جذبے کے ساتھ اپنے حقوق کی جدوجہد تیز کریں اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی، فلاحی، جمہوری ریاست بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
دعوت نامہ کے مطابق کانفرنس کی صدارت علامہ سید رضی جعفر نقوی کریں گے جبکہ کانفرنس میں علمائے کرام، خطبائے کرام، دانشوران ملت، شیعہ تنظیموں کے ذمہ داران، ماتمی انجمنوں کے نمائندگان، مساجد و امام بارگاہوں کے منتظمین، بانیان مجالس و جلوس عزا و اسکاؤٹس گروپس کے نمائندگان شریک ہوں گے
تقریب کے اختتام پر طلباء کے والدین نے جامعۃالکوثر کا دورہ کیا اور اس عظیم الشان دینی مرکز کی شان و شوکت اور قومی و ملی فعالیت کو بے حد سراہا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ 7 جولائی کو سویڈن میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوگا۔ وزیراعظم شہبازشریف کی تمام جماعتوں سمیت پوری قوم کو احتجاج میں شریک ہونے کی اپیل بھی کی۔
اس احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے شیخ احمد علی نوری نے کہا کہ آج ہم اس علامتی احتجاج کے ذریعے سے پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حرمت قرآن اور حرمت رسول پر تو ہماری جانیں بھی قربان ہیں۔ ہم ان کی بے حرمتی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔