صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ پوی دنیا اور عالم اسلام کی طرح پاکستان میں بھی تمام مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے لوگ امام انسانیت، امام عالی مقام اور ان کے رفقاء کو اپنے اپنے انداز میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں ان کی یاد مناتے ہیں اسی سلسلے میں مختلف انداز میں مجالس، محافل، جلوس ہائے عزا کا انعقاد ملک کے طول و عرض میں ہوتا ہے۔
عزاداری ہماری شہہ رگ حیات ہے، اس کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریخ نہیں کریں گے۔ آئین پاکستان میں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ کوئی ملک دوسرے مسلک کے عقائد سے متصادم اقدام نہیں کر سکتا۔
پاکستانی فوج نے بیان میں مزید دھمکی دی ہے کہ یہ حملے ناقابل قبول ہیں اگر ذمہ داروں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی تو پاکستانی سیکورٹی فورسز موثر انداز مین نمٹ لیں گی۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب تقسیم انعامات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم (ص) کی حدیث ہے کہ ماں کی گود سے قبر کی گور تک علم حاصل کرو یعنی علم حاصل کرتے رہو۔
تین روزہ اجلاس کے پہلے دن کی پہلی نشست کا آغاز تلاوت کلام الٰہی سے ہوا جس کے بعد تمام اراکین نے اپنا تعارف کروایا، مرکزی صدر نے ابتدائی کلمات ادا کیے۔
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ پاراچنار (کُرم ایجنسی) کے لوگ فکری، تہذیبی، ثقافتی اور علمی اعتبار سے باقی ایجنسیوں کی عوام سے یکسر مختلف ہیں
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ان ہی فورمز کے ذریعہ خاص طور پر صوبہ سندھ میں شہید علامہ حسن ترابی نے بے پناہ خدمات سرانجام دیں
مقررین نے شرکائے کانفرنس سے خطاب میں غدیر و عاشورا کی اہمیت، ولایت کے تقاضوں اور تبلیغ دین جیسی خطیر ذمہ داری کی اہمیت اور مبلغ کی خصوصیات کے علمی و فکری موضوعات پر گفتگو کی
محرم الحرام کی آمد آمد ہے، ان حالات میں علاقے میں امن ضروری ہے۔ اتحاد بین المسلمین کی فضا کو برقرار رکھا جائے