رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
قائد ملت علامہ سید ساجد علی نقوی نے محرم الحرام 1445ھ کے آغاز پر علماء و ذاکرین، خطباء و اعظین، بانیان مجالس، لائسنسداران، عزاداران، ماتمی و نوحہ خوان حضرات کے نام پیغام میں کہا ہے کہ ماضی میں ارض پاک کے ہر مکتب اور مسلک کا پیروکار آزادی کی فضا میں اپنے اپنے طریقہ کار اور تعلیمات و عقائد کے مطابق محرم الحرام مناتا تھا، اس طرح عزاداری سیدالشہدا (ع) کے فروغ کے ساتھ ساتھ اہل بیت رسولؐ کے ساتھ محبت اور وابستگی میں اضافہ ہورہا تھا
کراچی میں 9 اور 10محرم کو موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی۔
جامعۃ الکوثر اسلام آباد کے فاضل طالبعلم جواں سال عالم دین ،مقرر خوش بیاں، پیکر اخلاص و عمل حجۃ الاسلام مولانا سید سفیر سجادشیرازی تلہ گنگ کے قریب ایک جان لیوا ایکسیڈنٹ کے سبب انتقال کر گئے ہیں۔
قومی امن کانفرنس میں مذہب یا مسلک کے نام پر فرقہ واریت اسلام اور خلاف قانون قرار دی گئی۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق کسی بھی مسلمان فرقے کی تکفیر جائز نہیں، آئین میں مسلمان کی تعریف تمام اکابرین کے درمیان متفق علیہ ہے، مقدس شخصیات کی توہین یا تحقیر کرنا جرم ہے، حکومت ایسے لوگوں کیخلاف سخت کارروائی کرے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا فرمان ہے کہ عزاداری ہمارا آئینی و قانونی حق ہے، میں پاکستان میں جب بھی، جس وقت بھی، جھاں بھی چاہوں عزاداری امام حسین علیہ السلام منعقد کرسکتا ہوں، دنیا کا کوئی قانون مجھے اپنی مذہبی آزادی سے روک نہیں سکتا۔
عزاداران کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ پنجاب پولیس کے نامناسب اور غیر آئینی و غیر قانونی رویے، دھونس دھاندلی کو اتحاد و اتفاق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے مسترد کیا جائے۔ نیز ہر گز ہرگز اپنے بنیادی، شہری، آئینی و قانونی حقوق سے دستبردار ہونے کیلئے کسی قسم کی دھمکیوں میں آئے بغیر کوئی شورٹی بانڈز یا تحریر نہ دی جائے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ پارہ چنار میں قبائل کے درمیان فرقہ وارانہ جنگ کے دوران ایک شخص عید نظر فاروقی مکتب اہل بیت کے خلاف مغلظات کہتا رہا ہے۔ افسوس ہے کہ ابھی تک اس شرپسند کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے گرفتار کیا جائے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ پوی دنیا اور عالم اسلام کی طرح پاکستان میں بھی تمام مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے لوگ امام انسانیت، امام عالی مقام اور ان کے رفقاء کو اپنے اپنے انداز میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں ان کی یاد مناتے ہیں اسی سلسلے میں مختلف انداز میں مجالس، محافل، جلوس ہائے عزا کا انعقاد ملک کے طول و عرض میں ہوتا ہے۔
عزاداری ہماری شہہ رگ حیات ہے، اس کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریخ نہیں کریں گے۔ آئین پاکستان میں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ کوئی ملک دوسرے مسلک کے عقائد سے متصادم اقدام نہیں کر سکتا۔