صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی 1967 میں نجف اشرف مشرف ہوئے اور نجف اشرف اور بعد ازاں قم میں مختلف اساتذہ کے ہاں فقہ اور اصول فقہ کے اعلی مدارج طے کئے۔
شہدائے کربلا نے ظلم و استبداد کی فضاء میں حق و صداقت اور پرچم اسلام کو بلند کرتے ہوئے یزیدی سلطنت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ عصر حاضر کی یزیدیت کو رسوا کرنے کے لئے ہمیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ قائد شہید نے عالمی استعمار کی سازشوں اور طاغوتی چیرہ دستیوں کے خلاف اور محروم و مظلوم طبقات کے حقوق کے لئے مسلسل جدوجہد کی اور بالخصوص پاکستان میں بیرونی سازشوں کا بروقت ادراک کر کے ان کے خلاف عملی جدوجہد کر نے کی طرح ڈالی ۔
ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے کراچی پہنچنے پر اولڈ کلفٹن اسٹریٹ کے نئے نام کی نقاب کشائی کی جسے تبدیل کرکے امام خمینی (رہ) کے نام پر رکھا گیا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، حجۃ الاسلام علامہ سید افتخار حسین نقوی، حجۃ الاسلام علامہ محمد حسین اکبر، حجۃ الاسلام مولانا مجیر محمد میثمی کی اعلی سطحی وفد کے ہمراہ "حرم مطھر مولا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام و حضرت مولا امام محمد جواد علیہ السلام" پر حاضری۔
انہوں نے کہا ہے کہ پارہ چنار کے اساتذہ اور ہزارہ قبیلے کے پولیس اہلکاروں کو سکیورٹی خدشات کے باوجود تھریٹ والے علاقوں میں بھیجنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، حکومت وقت بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں بڑھتے ہوئے دہشتگردی کے واقعات پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے،
دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات سے پہلے دونوں نے وزرات خارجہ کے صحن میں دوستی کا پودا لگایا۔
علامہ محمد حسین اکبر نے مزید بتایا کہ عراقی وزیراعظم نے غیر قانونی پاکستانی تارکین وطن کی آمد کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا اور پاکستانی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ سے اس معاملے پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
جلوس میں نامور ماتمی انجمنوں نے نوحہ خوانی و سینہ کوبی کی۔ جلوس میں عزاداران کے علاوہ بوڑھے، بچوں اور خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ جلوس کی گزر گاہوں پر عزاداران کیلئے سبیلیں اور طبی امدادی کیمپ لگائے گئے تھے، جہاں سے عزاداران کی رہنمائی کی گئی۔