صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسکاؤٹس جوانوں کی طرف سے نیاز و سبیل کا اہتمام کیا گیا، جنہیں متاثرین میں تقسیم کیا گیا، جوان زخمیوں کو ریسکیو کرنے میں بھی مصروف عمل ہیں۔
قائد محترم نے تفصیل سے رپورٹ کا جائزہ لیا اور دورے میں موجود تمام افراد کی محنتوں اور کاوشوں کو سراہا اور مزید اقدامات کو بڑی گہری نظر سے حل کرنے کی رہنمائی بھی کی
شہید قائد نے ملت پاکستان کو کبھی تنہاء نہیں چھوڑا، قوم کے وارث ونگہبان آپ کی محبت ہمارے دلوں کا سرمایہ اور روحوں کی پاکیزگی کا سامان ہے۔
واضح رہے کہ اس درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا کشمیر پر قبضہ ناجائز اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے لیکن افسوس حقوق بشریت کیلئے صدائے احتجاج بلند کرنیوالوں اور آسمان سرپر اٹھانے والوں کی زبانیں معلوم نہیں کیوں بھارت کیخلاف گنگ ہیں۔
ڈاکٹر محمد علی ممتاز نے مسجد منیجمنٹ کے حوالے سے پروجیکٹر کے ذریعے مفصل گفتگو کی اور ورکشاپ میں حاضر علمائے کرام کے مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے۔
رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان میں ایران کے سفیر محترم جناب امیری رضا مقدم اور شیعہ علما کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی بھی موجود تھے۔
آپ نے عالمی استکباری قوتوں امریکہ اور اسرائیل کو للکارا۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ 35 سال گذر جانے کے باوجود قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔
جنہوں نے کربلاء کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صبر و تحمل اور انسانی حرمت کو فروغ دیکر ہم معاشرے کا اچھا شہری بن سکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خدا کے نیک اور پسندیدہ بننے کی کوششیں بھی تیز کرنا ہونگی، اچھی سوچ و فکر کو اپناتے ہوئے معاشرے کی درستگی کرنا ہوگی۔