صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
علامہ امین شہیدی نےمسلم امہ کےنام اپنےپیغام میں کہاکہ مسلمان حکمرانوں اورعوام کومشترکہ مفادات کےحصول کےلئےمغربی طاقتوں کی فکری غلامی سےنجات حاصل کرناہوگی۔مسلمان حکمرانوں کی اپنےہم مذہب وہم عقیدہ لوگوں کےساتھ اللہ کےگھرمیں ایک ساتھ نمازکی ادائیگی کافی نہیں۔اسلام تہذیبِ نفس کادین ہےجواللہ اوربندوں کےدرمیان پاکیزہ رابطہ کوبرقراررکھنےکادرس دیتاہے۔
اس کے علاوہ عید سعید قربان کے اس پر مسرت موقع پر حرم امام رضا علیہ السلام کے صحنوں اور تمام مقدس مقامات کو رنگ برنگی لائیٹوں سے چراغانی کیا گیا ہے ،صحنوں میں مختلف رنگ کے پرچم اور بینرز بھی نصب کئے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا قربانی کا فلسفہ یہی ہے کہ اپنی خواہشات اور اعمال کو پروردگار کی مرضی کے تابع بنایا جاے اپنی پسندیدہ چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنا اور اس کی قربت کو حاصل کرنا اس عید کا بنیادی ترین مقصد ہے
انہوں نے کہا ہم دن بہ دن نمود و نمائش اور ریاکاری جیسی خصلتوں کا بری طرح شکار ہوتے جا رہے ہیں بطور مسلمان ہمیں اپنی شرعی فرائض و تہوار میں دینی روح پیدا کرنے کی ضرورت ہے یعنی ہمارا ہر عمل اللہ تعالی کی خوشنودی اور اس کی رضا کے حصول کے لیے ہو جسکا اشارہ خود قرآن کریم میں بھی پروردگار نے کیا ہے کہ اس کے پاس اپنے بندوں کا صرف تقوی اور اخلاص پہنچتا ہے۔
عید الاضحی کے نیک اور بابرکت موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم انبیاءکرام‘ ائمہ معصومین ؑ‘شہدائے اسلام کی قربانی سے بالخصوص حضرت ابراہیم و اسماعیل ؑ کی قربانی سے الہام اور سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ایک راہ متعین کریں گے
شہیدعلامہ ڈاکٹرغلام محمد فخر الدین کی ساتویں برسی کی مناسبت سے ایک فکری نشست جامعۃ النجف میں منعقد ہوا۔جس میں شہید کے نظریاتی دوستوں نے شرکت اور اظہار خیال کیا۔
قوموں کی ترقی میں خواتین کا ہمیشہ مرکزی کردار رہا، جدوجہد پاکستان میں فاطمہ جناح بابائے قوم کے شانہ بشانہ رہیں
اسلامی تحریک پاکستان پنجاب کے 20 حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی تائید کرے گی۔
یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ قربانی کے مخصوص سات یا دس حصے بنائے جائیں اور زیادہ کی گنجائش نہیں بلکہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اپنا حصہ قربانی میں ڈال کر اپنا مستحب عمل بجا لا سکتا ہے