دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
ایران نے انقلاب اسلامی کے بعد بہت مشکل دن دیکھے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ وزیراعظم اور صدر شہید ہو گئے۔ لوگ امام خمینی کے پاس آئے اور کہا کہ اہم شخصیات شہید کر دی گئی ہیں۔ تو آپ نے تسلی دی اور کہا اللہ کو جن سے پیار ہوتا ہے انہیں جلد اٹھا لیتا ہے
تعزیتی ریفرنس سے علامہ سید رضی جعفر نقوی، علامہ شبیر حسن میثمی، علامہ باقر زیدی، معراج الہدیٰ صدیقی، علامہ شیخ محمد سلیم، علامہ اصغر حسین شہیدی، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ محمد حسین رئیسی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔
شیعہ علماء کونسل کے رہنمائوں نے کہا کہ غم اور دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم ایرانی سوگوار قوم کے ساتھ کھڑی ہے، ایرانی صدر اور اُن کی رفقاء کی شہادت عالم اسلام کا نقصان ہے، استعمار مسلسل انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے لیکن یہ شہداء کے خون کی تاثیر ہے کہ انقلاب روز بروز مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملت اسلامیہ کے لئے یہ بہت بڑا سانحہ ہے، سید ابراہیم رئیسی دیگر اسلامی ممالک اور بالخصوص فلسطین و غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی بھرپور حمایت کر رہے تھے۔
وفد نے رہبر معظم انقلاب، ملت ایران اور شہداء کے خاندانوں تک تعزیت پہنچائی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ کابینہ کے اہم وزراء پر مشتمل وفد بھی ہے، وزیراعظم کا اپنے انتخاب کے بعد یہ متحدہ عرب امارات کا پہلا دورہ ہے۔
رئیس الوفاق المدارس آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی کی قیادت میں وفد میں علامہ محمد افضل حیدری ،علامہ مرید حسین نقوی، ڈاکٹر سید محمد نجفی بھی شامل تھے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ مرحوم ایرانی صدر پاکستان کے عظیم دوست تھے۔ ان کے گزشتہ ماہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی عوام کے ساتھ گزرے لمحات ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
وفد میں علامہ غلام باقر گھلو صاحب, علامہ اعجاز حسین حیدری صاحب ودیگر علماء کرام بھی ہمراہ تھے.